خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 237

*1946 237 خطبات محمود بادشاہت نہ تھی۔اس لئے ان کا دماغ اس طرف جاہی نہ سکتا تھا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو قتل کر دیں یا پھانسی پر لٹکادیں یا قید کر دیں۔چونکہ یہ طریقے ان کو معلوم ہی نہ تھے اس لئے انہوں نے وہ طریقے اختیار کئے جو ماتحت یا برابر کے لوگ اختیار کیا کرتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کی حالت بہت کچھ بدل چکی تھی اور وہ اس حد تک ترقی کر چکے تھے کہ ان میں قبائل بندی پیدا ہو چکی تھی اور وہ جنتھا بندی کر کے لٹھ بازی کر لیتے تھے اور تکلیفیں اور مصیبتیں دینے کی جرآت اور طاقت ان میں پیدا ہو چکی تھی۔مگر ابھی تک کوئی منظم حکومت یا بادشاہت اُن کے اندر بھی موجود نہ تھی اور ان میں کوئی ایسا نظام نہ تھا کہ وہ لوگوں کو پھانسی یا قتل کی سزا دیں یا کسی کو قید کر دیں۔اگر وہ کسی کو تکلیف دینا چاہتے تو لٹھے بازی اور پتھر اؤ سے کام لیتے۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آیا۔اُس وقت حکومتیں قائم ہو چکی تھیں اور جماعتیں منظم ہو چکی تھیں۔اگر کسی کو کسی شخص کے خلاف غصہ پیدا ہو تا تھا تو وہ اسے حکومت کے ذریعہ سزا دلوانے کی کوشش کرتا تھا۔جیسا کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تو ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے ہم تمہارے خلاف حکومت سے فریاد کریں گے۔چنانچہ ان لوگوں نے حکومت کے پاس حضرت ابراہیمؑ کے خلاف شکایت کی اور حکومت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ابراہیم کو آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے۔اس وقت قانون کا پنجہ اس قدر مضبوط ہو چکا تھا کہ وہ افراد کو سزا دینے سے ذرا بھی نہ جھجکتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔جیسے آجکل حکومت کے جج بالکل نڈر ہو کر پھانسی کا حکم سنا دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں مارنے کی کسی میں طاقت نہیں۔بہر حال یہ سلسلہ ترقی کرتا گیا اور مخالفتیں بھی نئی نئی شکلیں اختیار کرتی گئیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مخالفت کا زور اور بھی بڑھ گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کو بہت دردناک تکلیفیں دی گئیں۔حضرت دانیال علیہ السلام کو شیروں کے آگے ڈال دیا گیا اور بنی اسرائیل میں سے بعض کے سروں پر آرے رکھ کر اُن کو چیر دیا گیا۔جیسا کہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے۔پھر حضرت مسیح علیہ السلام کا زمانہ آیا۔دشمنوں نے آپ کو صلیب پر لٹکا دیا اور آپ کے خلفاء اور صحابہ میں