خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 238

*1946 238 خطبات محمود سے بھی بعض کو قتل کیا اور بعض کو صلیب پر لٹکا دیا۔پھر رسول کریم صلی الم کا زمانہ آیا اور مخالفت اپنے پورے زور کے ساتھ نمودار ہوئی۔کئی صحابہ قتل کئے گئے۔بعض کا مثلہ کیا گیا، کئی ایک کو اس طرح شہید کیا گیا کہ دو اونٹوں سے ان کی ٹانگیں باندھ کر ان اونٹوں کو مختلف جہات میں دوڑایا گیا اور اس طرح چیر کر اُن کو دو ٹکڑے کر دیا گیا، عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ان کو مار دیا گیا، بعض صحابہ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا، بعض کو سخت پتھروں والی زمین پر گھسیٹا گیا، بعض کے سینوں پر جوتوں سمیت ناچا گیا۔غرض وہ تمام قسم کی مصیبتیں اور اذیتیں جو مختلف انبیاء کے زمانے میں ان کے دشمنوں نے ان کو دیں وہ سب رسول کریم صلی ایم کے زمانہ میں جمع ہو گئیں۔پس زمانہ کے بدلنے کے ساتھ تکالیف کا رنگ بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔ہمارے زمانہ میں چونکہ غیر حکومت تھی اور وہ ظالم کے ہاتھ کو بہت حد تک روکتی تھی اس لئے لوگ براہ راست ہم پر مظالم نہیں کر سکے۔لیکن جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں لوگوں نے حکومت کے ذریعہ ان پر اور ان کے صحابہ پر مظالم کئے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں نے آپ کو حکومت کے ذریعہ دکھ دینے کی کوشش کی۔جلسوں میں آپ کے خلاف شور مچایا گیا، آپ کے خلاف قتل کی سازشوں کا الزام لگایا گیا، آپ پر قتل کے جھوٹے مقدمات کئے گئے، حکومت کو آپ سے بد ظن کرنے کی کوششیں کی گئیں کہ یہ شخص ملک میں فساد ڈلوانے کی نیت رکھتا ہے اور ملک کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔غرض بہت سی جھوٹی رپورٹیں کر کے حکومت کے ذریعے آپ کو تکالیف میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔اور ہندوستان سے باہر جہاں انگریزوں کی حکومت نہ تھی ہمارے کئی آدمی قتل کئے گئے اور نہایت بے دردی سے سنگسار کئے گئے۔ہندوستان میں ہماری جماعت کی حالت پہلے نبیوں کی جماعتوں سے مختلف ہے۔اگر ہماری جماعت کو ان مصائب کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن مصائب کا پہلے انبیاء کی جماعتوں کو سامنا کرنا پڑا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے مخالفین کو ہمارے خلاف غصہ کم تھا بلکہ اس لئے کہ ان میں طاقت نہیں تھی کہ وہ ہم پر براہ راست مظالم کر سکتے کیونکہ ایک اجنبی حکومت ہمارے ملک پر حکمران تھی۔اس لئے وہ اپنے غصہ کا اس رنگ میں اظہار نہیں کر سکتے تھے۔لیکن اسی زمانہ میں ہندوستان کے پہلو میں افغانستان نے متواتر ہمارے کئی آدمیوں کو مارا۔