خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 236

*1946 236 17 خطبات محمود ہندوستان میں تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی پیدا کی جائے ) فرموده 17 مئی 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”دنیا میں بہت سے انبیاء آئے ہیں ان میں سے بعض کے تھوڑے یا بہت حالات موجود ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام ایسے زمانہ میں آئے جبکہ حکومتیں اور بادشاہتیں نہیں تھیں اس لئے قرآن کریم میں ان کے متعلق یہ ذکر تو نہیں آتا کہ اس زمانہ کے لوگوں نے ان لو تکلیفیں اور اذیتیں دیں۔مگر یہ ذکر ضرور آتا ہے کہ ان کے خلاف دوسرے لوگوں کے دلوں میں غم و غصہ پیدا ہو تا تھا۔لیکن چونکہ اس وقت تک دشمنیاں اور بغض نکالنے کا جبری طریق ایجاد نہیں ہوا تھا اس لئے لوگ ان کو کوئی ایذا نہ دے سکے۔لوگ یہ تو چاہتے تھے کہ آدم تباہ و برباد ہو جائے لوگ یہ تو چاہتے تھے کہ آدم پر تباہی و بربادی نازل ہو مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کو کس طرح تباہ و برباد کریں۔چونکہ وہ منظم نہیں تھے اس لئے وہ جانتے نہیں تھے کہ اپنے غصہ کو کس طرح نکالیں اور حضرت آدم علیہ السلام کو کس طرح برباد کریں۔انہوں نے اپنے جوش نکالنے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے صلح اور دھوکا دہی سے کام لیا اور اس مقام سے ان کو نکال دیا جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو قائم کیا تھا۔گویا سوائے دھوکا دہی اور فریب دہی کے کوئی اور ذریعہ اختیار نہ کر سکے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ ان میں کوئی منظم