خطبات محمود (جلد 27) — Page 661
*1946 661 خطبات محمود کہ وہ اس دور میں ضرور شامل ہو گا۔اگر نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے تو تھوڑے ہی دنوں میں ان کی تعداد دس بیس ہزار تک پہنچ جائے گی اور پھر یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جائے گی۔ہر نوجوان یہ سمجھ لے کہ یہ کام کسی اور نے نہیں کرنا بلکہ میں نے ہی کرنا ہے اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری مجھ پر ہی عائد ہوتی ہے۔اگر نوجوان اس عظیم الشان ذمہ داری کو سمجھ لیں گے تو یقیناً ہم ایک نہایت مضبوط ریز رو فنڈ قائم کر سکیں گے۔پھر ہر نئے دور کے بعد نئے مجاہدین پیدا ہوتے چلے جائیں گے جو اس بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کے قابل ہوں گے اور یہ سلسلہ اسی طرح قیامت تک جاری رہے گا۔پس جماعت کا ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے یہ عہد کرلے کہ وہ کسی زید بکر یا عمر کو نہیں دیکھے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی کو صحابہ کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے گا۔میں جماعت کے نوجوانوں کو خواہ وہ لاہور کے رہنے والے ہوں یا امر تسر کے، سیالکوٹ کے رہنے والے ہوں یا گجرات کے ، پشاور کے رہنے والے ہوں یا د ہلی کے اور اس سے آگے چل کر حیدر آباد کے کسی اور علاقہ کے رہنے والے ہوں اس امر کی طرف خصوصیت سے توجہ دلا تا ہوں کہ وہ اس بات کو اپنے ذمہ لے لیں کہ انہوں نے ہر ممکن طریق سے اس اگلے دور کو کا میاب بنانا ہے اور اس کے لئے انہیں کتنی بھی قربانیاں کرنی پڑیں وہ ضرور کریں گے اور وہ کسی نوجوان کو بھی اس میں حصہ لئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔میں جب دتی گیا تو میں نے اندازہ لگایا کہ وہاں کے احمدیوں کی ماہوار آمدن پچاس ہزار روپیہ کے قریب ہے جو چھ لاکھ روپیہ سالانہ بنتی ہے۔اور اگر ان میں وصیت والا کوئی نہ ہو تو ان کی طرف سے ساڑھے سینتیس ہزار روپیہ سالانہ چندہ آنا چاہئے۔اور اگر وصیت والے بھی ہوں تو ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ چندہ اُن کی طرف سے آنا چاہئے ورنہ کم از کم اڑتالیس ہزار سالانہ توضرور آنا چاہئے۔مگر اُن کا سالانہ چندہ تیس ہزار روپیہ کے قریب آتا ہے حالانکہ اگر کوشش کی جائے تو اِس چندہ کی مقدار بڑھائی جاسکتی ہے۔یہی حال لاہور کی جماعت کا بھی ہے۔ان دونوں جماعتوں کا چندہ عام ہی اسی ہزار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔اور اسی طرح تحریک جدید کا چندہ چالیس ہزار تک جا سکتا ہے مگر پوری طرح توجہ نہ کرنے کی وجہ سے دہلی اور لاہور کی