خطبات محمود (جلد 27) — Page 662
*1946 662 خطبات محمود جماعتوں کے تحریک جدید کے چندے صرف بیس ہزار روپیہ تک ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ میں نے چند اور شہروں کے متعلق بھی اندازہ لگایا ہے کہ اگر وہاں کے کارکنان کوشش کریں تو وہاں کے چندوں کی مقدار کو بڑھا لینا کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔مگر یہ کام توجہ اور محنت چاہتا ہے۔اگر جماعت کے لوگوں کے سامنے سلسلہ کی ضروریات اور تحریک جدید کی اہمیت کو اچھی طرح واضح کیا جائے تو یہ کام مشکل نہیں ہے۔اس وقت صدرا مجمن احمد یہ کا بجٹ نو لاکھ روپیہ سالانہ کا ہے مگر میرا اندازہ یہ ہے کہ اب جنگ ختم ہونے پر اس کو بجائے کم ہونے کے پندرہ لاکھ روپیہ سالانہ ، اسی طرح تحریک جدید کا چندہ سات آٹھ لاکھ سالانہ ، دونوں دوروں کا مل کر ہونا چاہئے۔لیکن اتنے وعدے نہیں ہوتے اور چندوں کی وصولی کی رفتار اور بھی سست ہے۔اگر یہی حالت رہی تو اس کام کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔اس سال کے تحریک جدید کے چندوں کی دونوں دور ملا کر گل وصولی اس وقت تک دو لاکھ نوے ہزار ہے اور وعدے تین لاکھ پچپن ہزار کے ہیں۔حالانکہ اگر لوگ قربانی سے کام لیتے تو اس وقت تک کم از کم وصولی ساڑھے تین لاکھ ہونی چاہئے تھی۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔لوگ یہ جو کہا کرتے ہیں کہ فلاں سیکرٹری یا فلاں کار کن اچھی طرح کام نہیں کرتا تو میں کیوں کروں؟ یہ اُن کی ایمانی کمزوری پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سوائے کسی کمزور ایمان والے کے اس قسم کے خیالات کوئی شخص بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتا۔صحابہ اس قسم کی باتیں ہر گز نہیں کرتے تھے کہ فلاں شخص کام نہیں کرتا اس لئے ہم بھی کام نہیں کرتے۔وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے تھے۔اگر لوگوں میں اسی قسم کے خیالات پیدا ہو جائیں کہ وہ چند کمزور لوگوں کو دیکھ کر خود بھی کام کرنا چھوڑ دیں تو دین کے کام کون کرے گا؟ پس ہر شخص اپنے دل میں یہ سمجھ لیوے کہ دین کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہی ہے اور میرے ایک کے شستی یا کمزوری دکھانے سے دین کے کاموں میں حرج واقع ہو جائے گا۔جب ہم میں سے ہر شخص اس بات کو پوری طرح ذہن نشین کرے گا تو یہ تمام رکاوٹیں خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی۔پس ہر شخص سمجھ لے کہ میں ہی دین کا ستون ہوں اور دین کی چھت میرے ہی سہارے پر کھڑی ہے اور اگر یہ چھت میری کسی کمزوری کی وجہ سے گر گئی تو میں خود