خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 590

*1946 590 خطبات محمود کو درست کریں، سوائے اس کے کہ وہ علمی ترقی کی طرف قدم اٹھائیں۔سوائے اس کے کہ وہ اپنی تعداد کو بڑھائیں اور کوئی ذریعہ اپنے بچاؤ کا اختیار نہیں کر سکتیں۔مگر مسلمانوں نے نہ کبھی اقتصادی حالت درست کرنے کی کوشش کی ہے نہ کبھی علمی ترقی کے لئے کوشش کی ہے۔غرض ترقی کے لئے انہوں نے کبھی جد و جہد کی ہے اور نہ اپنے اندر تنظیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ اس سے بھی زیادہ کمزور ہیں جیسے بھیڑ اور بکریاں۔وہ دعوے تو خوب کرتے ہیں اور بڑے بلند بانگ کرتے ہیں مگر حقیقتاً مسلمانوں سے زیادہ بیکس اور کوئی نہیں۔اور ان کے دعوے ان کے لئے اور بھی زیادہ لعنت کا موجب بن رہے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ مسلمان اور اقوام کے مقابلہ میں بالکل کمزور اور بے بس ہیں انسانی تدابیر پر بھروسہ کرنا اور انہی کو اپنے لئے کافی سمجھنا بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں جہاں مصیبت آئی ہے وہاں کے مسلمان اپنے بچاؤ کے لئے تدبیریں بھی کرتے ہوں گے۔کبھی کہتے ہوں گے ہم یہاں۔بھاگ جائیں، کبھی کہتے ہوں گے ہم اکٹھے ہو جائیں اور مل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔مگر حقیقی علاج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کی جائیں کہ وہ اپنے فضل سے ایسی صورت پیدا کرے کہ مسلمانوں کے لئے بچاؤ کا راستہ نکل آئے۔میں سمجھتا ہوں اس فساد کی ذمہ داری ایک حد تک مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ تمام فسادات جو ہندوستان میں ہو رہے ہیں ان کی بنیاد خود ہندوؤں سے ہوئی اور ہندو علاقوں سے ہوئی ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ گاندھی جی اور دوسرے ہندو لیڈر برابر یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے فساد کی ابتدا ہوئی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔سب سے پہلے احمد آباد اور الہ آباد میں فساد ہوا ہے اور احمد آباد اور الہ آباد میں مسلمان اتنے کم ہیں کہ انہیں فساد شروع کرنے کی جرات ہی نہیں ہو سکتی تھی۔وہاں ہند وہی ہند و آباد ہیں اور مسلمان کسی صورت میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لئے یہ خیال کہ احمد آباد اور الہ آباد میں مسلمانوں کی طرف سے فساد کی ابتدا ہوئی ہے عقلی لحاظ سے بالکل غلط ہے۔اس کے بعد دوسرے مقامات پر فساد ہوئے ہیں مگر بہر حال مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر احمد آباد اور الہ آباد میں مسلمان مارے گئے تھے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے تھا کہ وہ تھوڑے ہیں