خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 591

*1946 591 خطبات محمود اور تھوڑے ہونے کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں انہی پر عائد ہوتی ہے۔ان کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں تنظیم نہیں اور تنظیم نہ ہونے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ان کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کافی تعلیم نہیں اور تعلیم نہ ہونے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ان کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اقتصادی حالت درست نہیں اور اقتصادی حالت درست نہ ہونے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ان کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی صنعتی حالت درست نہیں اور صنعتی حالت درست نہ ہونے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔جب ساری کمزوریاں ان میں پائی جاتی تھیں، جب وہ ہر لحاظ سے ناطاقت اور کمزور تھے تو کیا یہ حماقت کی بات نہیں کہ انہوں نے نوا کھلی میں ہندوؤں کو مارناشروع کر دیا۔قطع نظر اس بات کے کہ احمد آباد اور بمبئی اور الہ آباد میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو مارا ہے اور یقینا ظلم سے کام لیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہند و اگر ظالمانہ فعل کریں تو اس سے مسلمانوں کو حق حاصل ہو جاتا ہے کہ جہاں وہ زیادہ ہوں وہاں ہندوؤں کو مارنا شروع کر دیں۔یہ اتنی ظالمانہ بات ہے کہ کوئی شریف انسان اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔پھر ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے عقل دی ہے۔انہیں عقلاً سوچنا چاہئے تھا کہ کیا ہم جو کچھ کر رہے ہیں عقل اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتی ہے۔مذ ہبا تو یہ جائز ہی نہیں تھا۔عقلا ہی انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ کیا الہ آباد اور احمد آباد اور بمبئی کے مظالم کا یہ جواب ہو سکتا تھا کہ نوا کھلی میں ہندوؤں کو مارا جاتا؟ کیا نو اکھلی 2 میں ہی ہندو بستے تھے ؟ کسی اور علاقہ میں ہندو نہیں رہتے تھے ؟ اگر ہندو سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں تو وہ کس طرح سمجھ سکتے تھے کہ نوا کھلی میں ہندوؤں کو مار کر وہ اور علاقوں میں ہندوؤں کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابتداء ہندوؤں کی طرف سے ہوئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی ذمہ داری اُن ہندو لیڈروں پر بھی ہے جو ابتداء میں جب ہندوؤں کی طرف سے فسادات ہو رہے تھے بالکل خاموش رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی ذمہ داری انگریزی حکام پر بھی ہے جو کلکتہ کے فسادات پر تو بولے مگر احمد آباد اور الہ آباد اور بمبئی کے فسادات پر خاموش رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی ذمہ داری پریس پر بھی ہے جس نے خبروں کو غلط طور