خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 529

*1946 529 خطبات محمود اور اب حکومت آصفیہ کے وزیر اعظم کے عہدہ سے واپس آئے ہیں۔اس تار کا جواب آنے پر میں نے انہیں لکھا کہ میرا اب ایسا ایسا ارادہ ہے کیا آپ اس میں شریک ہو سکتے ہیں؟ دوسرا تار میں نے کانگرس سے میل جول کے لئے مسز نائیڈو کو دیا۔مسٹر نائیڈو میری پرانی واقف ہیں اور وہ ہمیشہ کہا کرتی ہیں کہ میرے دل میں مسلمانوں کا بہت درد ہے اور میں ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرتی۔مگر افسوس کہ انہوں نے تار کا کوئی جواب نہ دیا۔پھر دوبارہ تار دیا گیا تو اس کا بھی جواب نہ دیا۔جس کے معنی یہ تھے کہ وہ اس تحریک میں شامل ہونا پسند نہیں کرتیں۔جب یہ باتیں ہو چکیں تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے جلدی قادیان پہنچنا چاہئے اور اس سکیم کے متعلق مزید کارروائی کرنی چاہئے۔یہاں پہنچ کر جب میں نے غور کیا تو میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ خواب میں میں نے دیکھا ہے کہ صلح اور سمجھوتہ کرانے کے لئے میں بیچ میں ہوں۔بیچ میں ہونے کے یہی معنے نہیں ہوتے کہ ضرور کوئی شخص بیچ میں ہو بلکہ یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اس کا ان باتوں سے کوئی اشتراک اور تعلق ہے۔اس پر میں نے سوچا کہ چونکہ دلی میں فیصلے ہو رہے ہیں مجھے بھی دتی چلنا چاہئے۔دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہو گا کہ دتی میں ہمیں تازہ بتازہ خبریں ملتی رہیں گی اور اگر حالات بگڑتے معلوم ہوئے تو ہم فوراًدعا کر سکیں گے۔قادیان میں تو ممکن ہے ہمیں ایسے وقت میں خبر ملے جب واقعات گزر چکے ہوں اور دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو۔کیونکہ دعا ماضی کے لئے نہیں ہوتی مستقبل کے لئے ہوتی ہے۔نیز مجھے یہ بھی خیال آیا کہ بعض اور بار سوخ لوگوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنا چاہئے جیسے سر آغا خاں ہیں۔گو سر آغا خاں ہندوستان میں نہیں تھے مگر میں نے سمجھا کہ چونکہ ان کی جماعت بھی مسلمان کہلاتی ہے اگر ان کو بھی شریک ہونے کا موقع مل جائے تو گور نمنٹ پر یہ امر واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی ایک اور جماعت بھی ایسی ہے جو اس بارہ میں مسلم لیگ کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔چنانچہ لنڈن مشنری کی معرفت میں نے سر آغا خاں کو بھی تار بھیجوا دیا۔اس دوران میں میں نے قادیان سے اپنے بعض نمائندے اس غرض کے لئے بھجوائے کہ وہ نواب صاحب چھتاری سے تفصیلی گفتگو کر لیں اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لیگ کے نمائندوں سے بھی ملیں اور ان پر یہ امر واضح کر دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لیگ کے