خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 530

*1946 530 خطبات محمود مقاصد کے خلاف کوئی کام کریں۔اگر یہ تحریک لیگ کے مخالف ہو تو ہمیں بتا دیا جائے ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر مخالف نہ ہو تو ہم کام شروع کر دیں۔اس پر لیگ کے بعض نمائندوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحریک ہمارے لئے مفید ہو گی، بالکل باموقع ہو گی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ذریعہ سے ہماری مدد کی گئی ہے ہمارے رستہ میں روڑے نہیں اٹکائے گئے۔چنانچہ میں دتی پہنچ گیا۔وہاں جو کچھ کام ہوا اُس کی تفصیلات میں میں اس وقت نہیں جانا چاہتا۔میر اخیال ہے کہ میں ایک کتاب ”سفر دہلی“ پر لکھوں کیونکہ بہت سی باتیں ہیں جو اِس سفر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آئندہ کام کے رستے کھولنے والی ہیں۔سر دست میں صرف اس قدر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں دتی گیا تو سر آغا خاں کی طرف سے بھی جو اب آگیا اور وہاں بعض اور لیڈروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔جیسے سر سلطان احمد ہیں۔مسلمانوں میں سے صرف ایک صاحب نے جواب نہیں دیا حالانکہ ان کو دو دفعہ تار دیا گیا تھا اور وہ سر محمد عثمان ہیں۔ان کے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ تعلقات ہیں اور مجھ سے ملنے کا بھی موقع ہوا ہے۔ممکن ہے وہ اس وہم میں مبتلا رہے ہوں کہ ہمارا کام کہیں لیگ کے لئے مضر نہ ہو۔لیکن ہم نے لیگ کے نمائندوں سے پہلے مشورہ کر لیا تھا اور ان سے کہہ دیا تھا کہ اگر ہماری یہ کوششیں ان کے نزدیک مضر ہوں تو ہم ان کو ترک کرنے کے لئے تیار ہیں۔بہر حال جیسا کہ ظاہر ہے ہم نہ لیگ میں شامل تھے نہ کانگرس میں ، نہ لیگ نے ہمیں اپنا نمائندہ بنایا تھا نہ کانگرس نے۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ انہی کی طرح باقاعدہ ہم بھی مشورہ کی مجالس میں شامل ہوتے۔ہماری جماعت کے بعض ناواقف دوستوں نے لکھا ہے کہ وائسرائے پنڈت جواہر لال نہرو، مسٹر جناح کے مشوروں کا ذکر تو اخباروں میں آتا ہے آپ کا کیوں نہیں آتا۔انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ وہ تو اُن سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں جنہوں نے باہمی فیصلہ کرنا تھا اور ہم کسی سیاسی جماعت کے نمائندہ نہیں تھے بلکہ ہم اپنا اثر ڈال کر انہیں نیک راہ بتانے کے لئے گئے تھے۔سیاسی جماعتوں کی نمائندگی نہ ہمارا کام تھا اور نہ گور نمنٹ یا کوئی اور اس رنگ میں ہمیں بلا سکتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ہم سے مشورہ لے اور ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھے۔ہماری جماعت ہندوستان میں سات آٹھ لاکھ