خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 528

*1946 528 خطبات محمود اور بعض نے لکھا ہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں لگا کہ گزشتہ دنوں کیا کچھ ہو تا رہا ہے۔یعنی دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔میں نے دہلی کا سفر کیوں کیا؟ اس کی وجہ در حقیقت وہ خواہیں تھیں جو ”الفضل“ میں چھپ چکی ہیں۔ان خوابوں سے مجھے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کے حل کو اللہ تعالیٰ نے کچھ میرے ساتھ بھی وابستہ کیا ہوا ہے۔تب میں نے اس خیال سے کہ جب میرے ساتھ بھی اس کا کچھ تعلق ہے تو مجھے سوچنا چاہئے کہ میں کس رنگ میں کام کر سکتا ہوں۔اس مسئلہ پر غور کیا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ممکن ہے برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف نہیں ہو گی بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میں شامل نہیں اور ایسی جماعتیں جو لیگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں اُن کو ملا کر وہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں قائم کر سکے گی۔اس خیال کے آنے پر میں نے مزید سوچا اور فیصلہ کیا کہ ایسے لوگ جو لیگ میں شامل نہیں یا ایسے لوگ جنہیں تعصب کی وجہ سے لیگ والے اپنے اندر شامل کرنا پسند نہیں کرتے۔جیسے احمدی کہ ان کو تعصب کی وجہ سے لیگ میں شامل کرنا پسند نہیں کیا جاتا اِن دونوں قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ آپس میں مل جائیں اور مل کر گورنمنٹ پر یہ واضح کر دیں کہ خواہ ہم لیگ میں نہیں لیکن اگر لیگ کے ساتھ حکومت کا ٹکراؤ ہوا تو ہم اس کو مسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے اور جو جنگ ہو گی اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے چاہا کہ ایسے لوگ جو اثر رکھنے والے ہوں خواہ اپنی ذاتی حیثیت کی وجہ سے اور خواہ قومی حیثیت کی وجہ سے ان کو جمع کیا جائے۔دوسرے میں نے مناسب سمجھا کہ کانگرس پر بھی اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ وہ اس غلطی میں مبتلانہ رہے کہ مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر وہ ہندوستان پر حکومت کر سکے گی۔اسی طرح نیشنلسٹ خیالات رکھنے والوں پر بھی یہ واضح کر دیا جائے کہ وہ کانگرس کے ایسے حصوں کو سنبھال کر رکھیں اور ان کے جوشوں کو دبائیں۔جن کا یہ خیال ہو کہ وہ مسلمانوں کو دبا کر یا ان کو آپس میں پھاڑ پھاڑ کر حکومت کر سکتے ہیں۔یہ سوچ کر میں نے ایک تار نواب صاحب چھتاری کو دیا۔وہ بھی لیگ میں شامل نہیں لیکن مسلمانوں میں بہت رسوخ رکھنے والے آدمی ہیں، یو۔پی کے گورنر رہ چکے ہیں