خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 475

*1946 475 خطبات محمود تو ہم سارا ہی قربان کر دیتے۔پس دوسرے لوگوں کی قربانیوں میں اور ہماری قربانیوں میں فرق ہونا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ انفرادی نیکیوں میں بہت پیچھے ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم نے نماز پڑھ لی، چندہ دے دیا تو پھر ہمارے ذمہ کوئی فرض نہیں رہا۔جس طرح اسلام جماعتی نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اسی طرح انفرادی نیکیوں کو پورا کرنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔جہاں پرانے زمانے کے لوگ اس غلطی پر تھے کہ جب ہم نے اپنے ہمسایہ کی خبر گیری کر دی اور کسی غریب کو روٹی اور کپڑا دے دیا تو ہمارا فرض پورا ہو گیا۔وہاں ہماری جماعت کے بعض افراد اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ جب ہم مرکز میں چندہ بھیجتے ہیں، باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں تو اس کے بعد ہمارے ذمہ اور کونسی ذمہ داری باقی رہتی ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے ان دونوں قسم کی نیکیوں کو ضروری قرار دیا ہے۔اگر ایک شخص اپنے مال کا تیسر احصہ بھی خدا کی راہ میں دے دیتا ہے لیکن اپنے ہمسائے سے بدسلوکی سے پیش آتا ہے۔بیواؤں، یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری نہیں کرتا اور گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا۔تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔اور باوجود اس کے کہ اس نے اپنے مال کا تیسر احصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا پھر بھی وہ مجرموں کی صف میں کھڑا ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔میں نے یہ حکم بھی دیا اور وہ حکم بھی دیا تھا۔ایک حکم کو تم نے پورا کیا اور دوسرے کو پس پشت ڈال دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے اندر کوئی نفسانیت تھی جس کی وجہ سے تم نے دوسرے حکم کو فراموش کر دیا۔اور مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری نہ کی۔اور اُن کے کام نہ آئے۔اسی طرح جو شخص یتیموں، غریبوں اور بیواؤں کی خبر گیری کرتا ہے اور اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرتا ہے، خلق خدا کی بہبودی کے لئے کوشش کرتا ہے لیکن قومی اور جماعتی کاموں کے بجالانے میں دریغ کرتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سر خرو نہیں ہو سکتا۔پس نفس کی اصلاح کے لئے اجتماعی اور فردی دونوں قسم کی قربانیاں ضروری ہیں۔ہر وہ شخص جو باجماعت نماز تو ادا کرتا ہے لیکن نوافل کی طرف سے غافل ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل نہیں کر سکتا۔اور وہ شخص جو کہ جماعتی عبادات بجا نہیں لاتا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہیں کر سکتا۔