خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 476

*1946 476 خطبات محمود پس انفرادی بھی اور جماعتی بھی دونوں قسم کی عبادتیں ضروری ہیں۔جہاں تک فرضی عبادتوں کا سوال ہے اور ان کے چھوڑنے سے انسان مسلمان نہیں رہ سکتا۔اور جہاں تک نفس کی پاکیزگی کا سوال ہے۔نفلی عبادتیں بھی اسی طرح ضروری ہیں۔رسول کریم صلی الم فرماتے ہیں کہ نوافل سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور نفلی عبادتوں کے بجالانے سے آہستہ آہستہ انسان پر ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ کام کرتا ہے۔اور پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے۔4 غرض انسان کے تمام جسم پر اللہ تعالیٰ حاوی ہو جاتا ہے اور بندے کے تمام کام اللہ تعالیٰ کے اشارے پر صادر ہوتے ہیں۔جماعتی عبادتوں میں ریاء اور نمود کا پہلو ہو سکتا ہے۔لیکن انفرادی عبادتوں میں ریاء اور سمعت 5 کا پہلو کم ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی عبادتیں مقرر فرمائیں۔جب تک کوئی انسان دونوں قسم کی عبادتیں بجا نہیں لا تا اُس وقت تک وہ مکمل انسان نہیں کہلا سکتا۔پس دونوں قسم کی عبادتیں ضروری ہیں۔حقیقی مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے دہلی کی جماعت سے ملنے کا کم موقع ملتا ہے۔لاہور کی جماعت کے لوگ بار بار قادیان آتے رہتے ہیں اور مجھے بھی بار بار لاہور جانا پڑتا ہے اس لئے ان سے ملنے کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں اور وہ میری باتیں اکثر سنتے رہتے ہیں۔لیکن مجھے دہلی آنے کا کم موقع ملتا ہے اور دہلی کے لوگ بھی بار بار قادیان نہیں جاتے۔اس لئے میں آج کے خطبہ میں دہلی کی جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے اور رسول کریم صلی اللی کرم فرماتے ہیں کہ صدر کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے اور سب سے زیادہ ذمہ داری صدر پر پڑتی ہے۔رسول کریم صلی الی یکیم نے جب بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو ان میں ایک فقرہ یہ بھی تھا۔اگر تم ایمان لاؤ گے تو تمہیں ڈ گنا ثواب ملے گا کیونکہ تمہارے ایمان لانے سے تمہاری رعایا بھی ایمان لائے گی۔اسی طرح انکار کرو گے تو تم کو عذاب بھی دُگنا ملے گا۔اس لحاظ سے دہلی کی جماعت کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں کیونکہ دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے۔یہاں مدراسی، بنگالی، بہاری، سی۔پی کے