خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 474

*1946 474 خطبات محمود اُس میں ایک اصلاح کا پہلو نظر آتا ہے۔پس تمہیں اپنے تمام کاموں کے متعلق غور و فکر کرنا چاہئے۔تمہاری نمازیں دوسروں سے ممتاز ہونی چاہئیں۔تمہارے روزے دوسروں سے ممتاز ہونے چاہئیں۔تمہارے حج اور زکو تیں دوسروں سے ممتاز ہونی چاہئیں۔دوسرے لوگوں کی نمازیں محض فرض اور چٹی کے طور پر ہیں اور دوسرے لوگوں کی زکو تیں محض دکھاوا اور نمود ہیں۔لیکن تم میں تو اللہ تعالیٰ کا ایک مامور آیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی باتیں سنیں اور تم اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے والوں سے ہمکلام ہوئے اور تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والوں کو دیکھا۔دوسری قومیں تو روایتیا اللہ تعالیٰ کے احسان اور محبت کے افسانے بیان کرتی ہیں لیکن تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کا ایک مامور آیا اور تم نے قریب زمانے میں اللہ تعالیٰ کے نشانات اور معجزات دیکھے اور دیکھ رہے ہو۔اتنے نشانات دیکھنے کے بعد بھی اگر ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی نمایاں فرق نہ ہو تو بہت افسوس کی بات ہے۔پس ہر کام کو تدبر اور تفکر کے ساتھ کرو۔تمہاری نماز اگر کسی وقت ہلکی بھی ہو تو اس میں یہ جذبہ کام کر رہا ہو کہ میر اخدا مجھے مل جائے۔اگر اس جذبہ کے ماتحت تم نماز ادا کرو گے تو یقینا تم اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتے جاؤ گے۔لیکن اگر تم یہ سمجھ کر نماز ادا کرو گے کہ نماز خدا کا حکم ہے اس لئے میں اسے ادا کرتا ہوں تو تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب نہیں کر سکو گے۔اسی طرح اگر تمہارے چندے اور تمہاری ز کو تیں اس نیت سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا دین ترقی کرے تو یقیناوہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں گے اور اگر کوئی شخص اس نیت سے قربانی کرتا ہے کہ میری عزت کا باعث ہو تو وہ قربانی اس کے لئے بجائے رحمت بننے کے زحمت بنے گی اور اللہ تعالیٰ سے دُوری کا موجب ہو گی۔ہماری عبادتوں اور دوسرے لوگوں کی عبادتوں میں ایک نمایاں فرق ہونا چاہئے۔ہمارا چندہ دینا دوسرے لوگوں سے جُدا گانہ ہو۔ہم یہ سمجھتے ہوئے مالی قربانیاں کریں کہ اصل میں جتنا مال ہمارے پاس ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور ہم جو چندہ یا صدقہ یا جو زکوۃ دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا قرض اُتارتے ہیں۔اور تھوڑا تھوڑا ادا کرتے جاتے ہیں تاکہ قرض اکٹھا نہ ہو جائے۔دوسرے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم زکوۃ دے کر اللہ تعالیٰ پر احسان کرتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے سارا مال نہیں مانگا اور اس نے کچھ ہمارے پاس بھی رہنے دیا۔اگر وہ سارا مانگتا