خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 358

$1946 358 خطبات محمود آثار قدیمہ والے اُن کی بستیاں نکال رہے ہیں۔جب تک کوئی تغیر پورے طور پر ظاہر نہیں ہو جاتا اُس وقت تک نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مبارک ہو گا یا مضر ہو گا۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ہر تغیر کے وقت زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرے۔قربانیاں بُری چیز کو بھی اچھی بنا دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ جا کر ان کو سمجھاؤ۔آپ ان کے پاس گئے اور ان کو سمجھاتے رہے لیکن انہوں نے آپ کا انکار کر دیا۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میں نے ان کو ہر طرح سمجھایا ہے لیکن یہ نہیں مانتے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جاؤ ان کو تبلیغ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اگر نہیں مانو گے تو چالیس دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا۔حضرت یونس پھر ان کے پاس گئے اور ان کو تبلیغ شروع کی۔انہوں نے کہا پہلے تم نے تھوڑی تبلیغ کی ہے کہ اب پھر باسی کڑہی میں اُبال آیا ہے۔حضرت یونس نے ان سے کہا کہ اگر تم مجھے قبول نہیں کرو گے تو چالیس دن کے اندر اندر تم پر ایک سخت عذاب آئے گا جس سے تمہارے مرد و زن تباہ ہو جائیں گے۔لیکن انہوں نے اس کے باوجود حضرت یونس کو قبول نہ کیا۔جب یہ مدت گزر گئی تو حضرت یونس نے دیکھا کہ ایک بادل اٹھا ہے۔آپ سمجھ گئے کہ یہ وہی عذاب ہے۔آپ اس بستی سے نکل گئے۔حضرت یونس کی قوم اس بادل کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان کو معلوم ہو گیا کہ یہ پانی برسانے والا بادل نہیں کیو نکہ وہ بادل سرخ ہوتا جا رہا تھا اور وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی بگولا ہے جس میں آگ ہے۔چونکہ پیشگوئی کا زمانہ بالکل قریب کا تھاوہ سمجھ گئے کہ یہ وہی بات ہے جو حضرت یونس نے کہی تھی اور یہ بادل ہماری تباہی کے لئے اٹھا ہے۔انہوں نے فوراً پنچایت بٹھائی کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔پنچایت نے کہا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ سارے کے سارے مرد و زن شہر سے نکل چلیں اور باہر چل کر خدا کے حضور گریہ وزاری کریں کہ وہ یہ عذاب ہم سے ٹلا دے۔اور انہوں نے یہ بھی م فیصلہ کیا کہ جانوروں کو بھی چارہ نہ دیا جائے اور مائیں بچوں کو دودھ نہ پلائیں۔چنانچہ وہ شہر سے نکل گئے اور باہر جاکر انہوں نے جانوروں کو باندھ دیا اور ماؤں نے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیا اور سب کے سب دعا میں مشغول ہو گئے۔اُدھر بچوں نے رونا اور بلبلا ناشروع کیا اور جانوروں نے رسے تڑوانے شرع کئے۔ان کی تدبیر بہت عقلمندانہ تھی کیونکہ بچوں کا رونا اور چلانا بہت