خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 357

*1946 357 خطبات محمود سات دور گزرتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان ادوار کو بیان فرمایا ہے کہ ابتدا میں بچے کی حالت ایک نقطہ کی ہوتی ہے۔پھر وہ نقطہ گاڑھا ہو جاتا ہے پھر وہ مضغہ بنتا ہے۔پھر مضغہ سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔پھر ہڈیاں بنتی ہیں۔پھر اس میں جان پڑتی ہے۔تو اس نو ماہ کے عرصہ میں بچے پر سات دور گزرتے ہیں۔اسی طرح اس میں سال کے عرصہ میں بعض سب سیکشنز (Sub Sections یعنی چھوٹے چھوٹے حصے ہو سکتے ہیں ان میں سے ایک دور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلوم ہوتا ہے اپریل 1948ء تک آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ دور ہماری جماعت پر کس رنگ میں اثر انداز ہو گا۔آیا اس عرصہ کو تنظیمی رنگ میں اہمیت حاصل ہے یا اسے اس لحاظ سے اہمیت ہے کہ وہ جماعت کے لئے مصیبت کا عرصہ ہے۔میں نے اپریل 1948ء کہا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ چند مہینوں کا فرق ہو جائے۔یعنی اپریل کی بجائے مئی، جون یا جولائی تک وہ تغیر پیدا ہو۔اتنے لمبے اندازوں میں چند مہینوں کا فرق ہو سکتا ہے۔پس جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر بھی تغیر پیدا کرنے کی کوشش کرے۔کیونکہ جب بھی کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے تو اس میں خیر اور شر دونوں کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔عوام الناس اور جاہل لوگ تغیرات کی پروا نہیں کرتے لیکن حقیقت آشنا لوگ ہر چھوٹے سے چھوٹے تغیر کے وقت گھبرا جاتے ہیں۔بادل آتے ہیں تو عَوامُ النَّاسِ خوش ہوتے ہیں اور بچے گاتے اور اچھلتے کودتے ہیں کہ ابھی بادل بر سے گالیکن رسول کریم صلی اینیم کے زمانہ میں جب بادل آتا تو آپ گھبر اگر کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر آتے۔آپ سے عرض کیا گیا کہ بادل تو بارش کا پیغام لاتے ہیں اور وہ خوشی کا موجب ہیں آپ کیوں گھبر اجاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا انہی بادلوں سے پہلی قوموں کے لئے عذاب نازل ہوا تھا۔انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ بادل ہمارے کھیتوں کو سر سبز و شاداب کرے گا لیکن وہی بادل ان کی تباہی کا سامان تھا۔3 اگر آدم سے لے کر آج تک کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بادل کئی قوموں کی تباہی کا باعث ہوئے۔حضرت نوح کی قوم کی تباہی بادلوں کے ذریعہ ہوئی۔عاد کی قوم نے بادل کو دیکھ کر بہت خوشیاں منائیں لیکن وہی بادل اُن کی تباہی کا باعث ہوا۔وہ بادل ایک ایسی تند ہوا کی صورت میں ظاہر ہوا کہ جس نے شہروں کو اُلٹ کر رکھ دیا اور آج تک ریت کے تو دوں میں سے