خطبات محمود (جلد 27) — Page 359
*1946 359 خطبات محمود رقت پیدا کرتا ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ مجلس میں سے ایک آدمی رو ناشروع کر دے تو سب رونا شروع کر دیتے ہیں۔پہلے دس بارہ منٹ تک بالکل خاموشی رہتی ہے جو نہی کسی نے ایک چیخ ماری ساری مجلس رونا شروع کر دیتی ہے۔انہوں نے یہ تدبیر بھی اس لئے کی کہ بچوں کے رونے سے ہمارے اندر رفت پیدا ہو گی اور دعاؤں میں سنجیدگی اور اخلاص پیدا ہو گا۔چنانچہ ان لوگوں نے ایک کہرام برپا کر دیا اور بہت عاجزی سے دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گریہ وزاری کو دیکھ کر فرشتوں کو حکم دیا کہ عذاب کو ٹلا دو۔چنانچہ عذاب ٹل گیا۔جب ان سے عذاب ٹل گیا تو انہوں نے ارد گرد کے علاقہ میں کچھ آدمی دوڑائے جو حضرت یونس کی تلاش کریں اور ان کو واپس بلا کر لائیں تاکہ حضرت یونس آکر ان کو ہدایت دیں اور انہیں بتائیں کہ وہ کیا کیا اعمال بجالائیں جن کے بجالانے سے خدا تعالیٰ ان سے خوش ہو۔لیکن ادھر حضرت یونس ان کو چھوڑ کر دور چلے گئے۔آپ کو کوئی مسافر اس طرف سے جانے والا ملا۔آپ نے اس سے پوچھا بتاؤ نینوا شہر کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا وہ لوگ بالکل راضی خوشی ہیں۔اس مسافر کو کیا معلوم تھا کہ نینوا کے متعلق عذاب کی پیشگوئی تھی اور انہوں نے گریہ وزاری کر کے اس عذاب کو ٹلا دیا ہے۔جب اس مسافر نے حضرت یونس کو بتایا کہ وہ لوگ راضی خوشی ہیں تو حضرت یونس کو بہت صدمہ ہوا کہ اب میں کس طرح اپنی قوم کو منہ دکھاؤں گا۔جب میں ان کے سامنے جاؤں گا تو وہ کہیں گے تم کتنے جھوٹے ہو۔تم نے کہا تھا کہ چالیس دن تک عذاب آئے گا لیکن عذاب نہیں آیا اور ہم عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔حضرت یونس نے گلے کے طور پر خد اتعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تو تیرے رحم سے پہلے ہی جانتا تھا کہ تُو نے ان لوگوں کو چھوڑ دینا ہے اور میں ہی ان لوگوں کے سامنے ذلیل ہوں گا۔اب اس حال میں میں اپنی قوم کے پاس نہیں جا سکتا۔یہ کہہ کر آپ سمندر کی طرف گئے اور اپنی قوم سے دور جانے کے لئے کشتی میں سوار ہو گئے۔جب کشتی چلی، سمندر میں ایک زبر دست طوفان آیا۔اس زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ کشتی سمندر میں اس لئے طوفان سے ڈگمگاتی ہے کہ کشتی میں کوئی چور ہو یا کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ کر جارہا ہو۔جب طوفان آیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری کشتی میں ضرور یا تو کوئی چور ہے یا کوئی بھاگا ہو ا غلام ہے۔اس پر حضرت یونس نے