خطبات محمود (جلد 27) — Page 313
*1946 313 خطبات محمود منع نہیں۔لیکن تمہیں دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات ، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کا خون ہو تا ہو ، وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔جب لوگ اپنے دوستوں کی ناراضگی، سوسائٹی کی ناراضگی اور قوم کی ناراضگی کا خیال رکھتے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی ایسی چیز ہے جس سے انسان کو بے پروا ہو نا چاہئے ؟ کیا خدا تعالیٰ کا وجو د ہی ایسا کمزور ہے کہ جس کی ناراضگی انسان کے لئے قابل اعتناء نہیں؟ جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی خفگی سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیتے۔تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن جس نے ایمان کی حلاوت پائی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے انتہائی طور پر خائف نہ ہو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر کی کسی بات پر تکرار ہو گئی۔یہ تکرار بڑھ گئی۔حضرت عمرؓ کی طبیعت تیز تھی اس لئے حضرت ابو بکر نے مناسب سمجھا کہ وہ اس جگہ سے چلے جائیں تاکہ جھگڑا خوامخواہ زیادہ نہ ہو جائے۔حضرت ابو بکر نے جانے کی کوشش کی تو حضرت عمرؓ نے آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر کا گرنہ پکڑ لیا کہ میری بات کا جواب دے کر جاؤ۔جب حضرت ابو بکر اس کو چھڑا کر جانے لگے تو آپ کا گر تہ پھٹ گیا۔آپ وہاں سے اپنے گھر کو چلے آئے۔لیکن حضرت عمر کو شبہ پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکر رسول کریم صلی ال نیم کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں۔وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑے تاکہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ کرم کی خدمت میں اپنا عذر پیش کر سکوں لیکن راستے میں حضرت ابو بکرہ حضرت عمر کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔حضرت عمر یہی سمجھے کہ آپ رسول کریم صلی الی ملک کی خدمت میں شکایت کرنے گئے ہیں۔وہ بھی سیدھے رسول کریم صلی الی یکم کی خدمت میں جاپہنچے۔وہاں جا کر دیکھا تو حضرت ابو بکر موجود نہ تھے لیکن چونکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہو چکی تھی اس لئے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں ابو بکر سے سختی سے پیش آیا ہوں۔حضرت ابو بکر کا کوئی قصور نہیں۔میر اہی قصور ہے۔جب حضرت عمر رسول کریم صلی الی یمن کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر کو جا کر کسی نے بتایا کہ الله سة