خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 268

خطبات محمود 268 *1946 تو جو شخص خود اپنا سر کٹوانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے بے شک وہ ظلم نظر آئے لیکن در حقیقت وہ ظلم نہیں ہو تا۔وہ سچی قربانی ہوتی ہے۔وہ عاشقانہ اقدام ہوتا ہے۔اس میں نہ ہم اس کی قدر کا اندازہ کر سکتے ہیں اور نہ معاملہ کرنے والے کو ظالم کہہ سکتے ہیں۔اسی طرح دوسرے معاملات کو میں دیکھتا ہوں کہ ان میں بھی جماعت پورے جوش کے ساتھ حصہ نہیں لے رہی۔حالانکہ اب ہمارے کام بہت وسیع ہو چکے ہیں۔شروع میں صرف شمالی امریکہ میں ہمارا مشن تھا لیکن اس کے بعد جنوبی امریکہ میں بھی ہمارا مشن کھل گیا۔اسی طرح مشرقی افریقہ میں بھی مشن قائم ہو چکا ہے۔پہلے وہاں صرف ایک آدمی تھا لیکن اب کئی آدمی جار ہے ہیں۔فرانس میں بھی ہمارا مشن قائم ہو گیا ہے مگر وہاں اخراجات کی جو کچھ حالت ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فرانس کے مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں صرف روٹی پر اوسطاً سوا پونڈ کے قریب ایک شخص کا روزانہ کا خرچ ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ چالیس پونڈ ماہوار میں وہاں ایک آدمی صرف روٹی کھا سکتا ہے۔اب تو وہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اگر رہائش کے لئے الگ مکان مل جائے اور وہ کھانے کا اپنے طور پر انتظام شروع کر دیں اور اس طرح یہ خرچ آدھا ہو جائے تب بھی ہیں پونڈ ماہوار صرف ایک شخص کی روٹی کے لئے چاہئے۔اس کے بعد مکان کا سوال ہے۔اس کے لئے دس پونڈ فرض کر لو۔پھر کپڑوں کا سوال آئے گا۔اس ملک کے لحاظ سے اس غرض کے لئے بھی ہمیں دس پونڈ رکھنے چاہئیں۔پھر ارد گرد کے علاقوں میں پھرنے ، لوگوں کو تبلیغ کرنے اور ٹریکٹ اور کتابیں وغیرہ شائع کرنے کے لئے اگر تیں پاؤنڈ رکھے جائیں تو یہ کل اخراجات ستر پونڈ ماہوار بن جاتے ہیں۔غرض ایک مبلغ کا ذاتی خرچ جس میں کھانے اور مکان اور کپڑوں کے اخراجات سب شامل ہیں کم سے کم چالیس پونڈ ماہوار ہے۔مگر ہم نے ایک مبلغ کے لئے آٹھ یا دس پونڈ مقرر کئے ہوئے ہیں۔گویا جس چیز سے وہ آٹھ دن صرف روٹی کھا سکتا ہے وہ ہم اسے مکان اور کپڑے اور روٹی اور تبلیغ کے اخراجات کے لئے دے رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان بعض وقت بھو کا بھی رہ سکتا ہے لیکن ی شخص سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کھانے کو کلیۂ ترک کر دے۔وہ بھوک اور پیاس کی تکلیف