خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 269

*1946 269 خطبات محمود تو ایک حد تک برداشت کر سکتا ہے مگر زندگی کے قیام کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے اس کو وہ چھوڑ نہیں سکتا۔ابھی ہمارے ایک مبلغ نے اٹلی سے لکھا ہے کہ یہاں اس قدر تنگی اور قحط ہے کہ اول تو ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہوتے کہ روٹی مل سکے اور اگر پیسے پاس ہوں تو روٹی نہیں ملتی۔اور اگر مل جائے تو کافی نہیں ہوتی اور چند دن کے بعد ایسی کیفیت پید اہو جاتی ہے کہ انسان بھوک سے بے تاب ہو جاتا ہے۔چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ آج بھوک کی شدت کی وجہ سے میری ایسی حالت ہو گئی کہ مجھے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نظر نہ آیا کہ میں جنگل میں چلا گیا اور میں نے درخت کے پتے کھا کر گزارہ کیا۔غرض اٹلی میں بھی ہمارا مشن قائم ہو چکا ہے۔فرانس میں بھی ہمارا مشن قائم ہو چکا ہے۔سپین میں ہمارے مبلغین کے جانے کی اطلاع آچکی ہے۔ہالینڈ میں بھی ہمارا مشن قائم ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ انگلستان میں بھی ہمارا مشن قائم ہے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھی ہمارا مشن قائم ہے۔ارجنٹائن میں بھی ہمارا مشن قائم ہے۔شام میں بھی ہمارا مشن قائم ہے۔ایران میں بھی ہمارا مشن قائم ہے۔نو یہ ہوئے۔آٹھ دس مشن ویسٹ افریقہ میں ہیں یہ سترہ ہو گئے۔ایک مشن ایسٹ افریقہ میں ہے۔ایک مشن ماریشس میں ہے۔دو مشن سماٹرا میں ہیں۔پانچ مشن جاوا میں ہیں۔ایک مشن ملایا میں ہے۔اسی طرح اور کئی مقامات پر ہمارے مشن قائم ہیں اگر سب کو ملا لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مشنوں کی تعداد تیس کے قریب بن جاتی ہے۔اور ان مبلغین کی تعداد جو ان مشنوں میں کام کر رہے ہیں پچاس کے قریب ہے۔اگر ہم ایک شخص کو کم سے کم خرچ کھانے اور کپڑے کے لئے دیں اور کم سے کم خرچ تبلیغ اور لٹریچر کی اشاعت کے لئے دیں تو پانچ سوروپیہ سے کم کسی صورت میں بھی خرچ نہیں آسکتا۔اور یہ بھی ہمارا کم سے کم اندازہ ہے ورنہ امریکہ جیسے ملک میں تو پانچ سو سے صرف روٹی کپڑے کا گزارہ ہو سکتا ہے اور وہ بھی نہایت ادنی صورت میں۔باقی اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔بہر حال اگر فی کس پانچ سو روپیہ ماہوار خرچ کا اندازہ رکھا جائے تو تین لاکھ روپیہ کی رقم صرف پچاس مبلغین کے اخراجات کی ہی بن جاتی ہے۔حالانکہ تحریک جدید کی ساری آمد تین لاکھ روپیہ سے کم ہے