خطبات محمود (جلد 27) — Page 267
$1946 267 خطبات محمود نہیں رکھتے۔مگر ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے مبلغوں سے دشمنی ہے؟ یا کیا تبلیغ کے فریضہ سے ہمیں دشمنی ہے؟ یا کیا ہم میں اتنی عقل نہیں کہ ہم اپنے ملک اور ان ملکوں کے فرق کو سمجھ سکیں؟ یہ سب باتیں غلط ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے فریضہ تبلیغ سے دشمنی نہیں بلکہ دلچسپی ہے اور دوسروں سے بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بے وقوف بھی نہیں بلکہ بہتوں سے زیادہ سمجھ اور عقل رکھنے والے ہیں۔پھر ہمیں اپنے مبلغوں سے بھی دشمنی نہیں۔وہ مبلغ ہمیں اپنے عزیزوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں کیونکہ وہ خدا کے لئے اور اس خدا کے دین کی اشاعت کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں۔پھر ہم کیوں ایسا کرتے ہیں؟ اس لئے کہ جماعت اپنی ذمہ داری کو پوری طرح نہیں سمجھتی اور جو چندہ جمع کرتی ہے وہ ہماری ضروریات کے لئے کافی نہیں ہوتا۔اب ایک ہی صورت ہے کہ یا تو ہم تبلیغ بند کر دیں یا تبلیغ کو کم کر دیں اور یا پھر اس قسم کے مظالم کو جاری رکھیں۔کئی لوگ جو بیرونی ممالک سے واپس آئے ہیں انہوں نے انہی الفاظ میں مجھ سے سوال کیا ہے کہ کیا اس ظلم کی اسلام اجازت دیتا ہے ؟ اس وقت میں جبکہ میرا نفس اس سوال سے شرمندہ تھا صرف یہی جواب دے سکا کہ ہاں ! اگر کوئی شخص خود اس ظلم کو خوشی سے برداشت کرتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم جبری طور پر ایسا کریں تو یہ ظلم ہو گا۔لیکن اگر وہ خود اپنی گردن ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بے شک میری گردن کاٹ دو۔تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔پس یہ ظلم تو ہے مگر ہمارا نہیں۔بلکہ وہ ظلم ہے جس میں مظلوم خود اپنی خوشی سے شریک ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ۔در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم 1 اگر تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سر کاٹے جاتے ہوں اور اے خدا! تو یہ فیصلہ کر دے کہ جو شخص بھی یہ کہے گا کہ میں عاشق ہوں اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔تو اول کسے کہ لا تعشق زند منم اے میرے رب! اگر مجھے یہ پتہ لگ جائے کہ تو نے ایسا حکم دے دیا ہے تو سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ میں عاشق ہوں، میں عاشق ہوں۔میں