خطبات محمود (جلد 26) — Page 206
$1945 206 خطبات محمود ٹوٹ جانے اور تسلسل کے کٹ جانے کی وجہ سے وہ ان نشانات سے فائدہ حاصل نہ کر سکی۔پس جو پہلوں سے ہوا وہی ہمارے ساتھ بھی ہو گا۔کیونکہ جو قانون پہلے تھا وہی اب بھی جاری ہے۔ابھی تو ہماری ابتدائی حالت ہے۔ابھی تو ہماری حالت ایسی ہی ہے جیسے کو نپل نکلتی ہے۔اگر اس حالت میں بھی ایثار کا مادہ کم ہو جائے، قربانی کا مادہ کم ہو جائے، عقل اور محنت سے کام کرنے کا مادہ کم ہو جائے اور دنیا داری بڑھ جائے تو یقیناً ہمیں مستقبل کے آنے سے پہلے ہی موت کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔میں نے بار بار اس بات کی طرف جماعت کو توجہ دلائی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی اس طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔ہمارے نوجوان جو آگے آرہے ہیں ان کے اندر محنت کی عادت کم ہے۔کام سے جی چراتے ہیں، ذکر الہی کا مادہ ان میں کم ہے۔میں نے خدام کو کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ نوجوانوں کے اندر وہ یہ مادہ پیدا کریں مگر جہاں انہوں نے کچھ کام کیا ہے وہاں یہ حقیقی کام صفر کے برابر نظر آتا ہے۔مجھے سب سے زیادہ جماعت کے لوگوں سے کام پڑتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ حقیقی قربانی اور محنت نوجوانوں میں کم نظر آتی ہے۔اور تو اور یہ واقفین جو کہتے ہیں ہم نے زندگی قربان کر دی ہے ان واقفین میں سے بھی بعض غیر معقول دماغ کے ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم نے کام کی ڈائری اس لئے نہیں دی کہ وقت زیادہ ہو گیا تھا۔ایک طرف وہ قوم ہے جسے ہم کافر اور بے دین کہتے ہیں جو چھ چھ سات سات دن بغیر آرام کرنے کے متواتر میدانِ جنگ میں لڑتے ہیں اور دوسری طرف یہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ چونکہ چھ بجے تک کام کیا تھا اور وقت زیادہ ہو گیا تھا اس لئے ڈائری لکھنی مشکل تھی۔اگر ایک دن زیادہ پڑھنا پڑ جائے تو کہتے ہیں آج زیادہ پڑھنا پڑ گیا تھا اس لئے باقی کام نہیں کیا۔اگر ان کا یہ حال ہے جو واقفین ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے لئے ہم سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں تو غیر واقفین کا کیا حال ہو گا۔ان کے اندر بھی ابھی وہ بیداری اور وہ روح نظر نہیں آتی اور ان کے اندر بھی ابھی وہ ارادہ پیدا نہیں ہوا کہ ان میں سے کسی کے سپر د کوئی کام ہو تو وہ کہے کہ میں مر جاؤں گا مگر اپنے کام کو پورا کر کے چھوڑوں گا۔اگر ان کے اندر عام مومن کے ایمان کا کروڑواں حصہ بلکہ دس کروڑواں حصہ بھی ہو تا تو