خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 205

$1945 205 خطبات حمود کی قدرتوں کے ساتھ ہی موسیٰ کی جماعت قائم ہوئی۔خدا کی قدرتوں کے ساتھ ہی کرشن کی جماعت قائم ہوئی اور خدا کی قدرتوں کے ساتھ ہی رامچندڑ کی جماعت قائم ہوئی۔مگر کہاں ہیں اب وہ نشانات اور کہاں ہیں اب وہ معجزات جو دلوں کو پگھلا دیتے تھے اور جو حیوانوں کو انسان اور انسان کو فرشتے اور فرشتہ خصلت انسانوں کو خدا کے مقرب اور عرش نشین بنا دیتے تھے۔کہاں ہیں وہ کرامتیں اور وہ معجزات جو را مچندرا اور کرشن نے دکھائے جنہوں نے ہندوؤں کی کایا پلٹ دی تھی۔کہاں ہیں وہ نشانات جو قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نو بڑے بڑے نشانات حضرت موسیٰ کو دیئے گئے تھے۔کیا ان نشانات میں سے نصف یا ان کا چوتھا حصہ یا ان کا کوئی حصہ بھی اب دنیا میں باقی ہے ؟ حضرت عیسی کی نسبت عیسائی تو بیان کرتے ہی ہیں مسلمان بھی اُن کو ایسا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو تمام انبیاء سے بڑھا دیتے ہیں۔ان کے معجزات میں سے علم غیب، جانوروں کا پیدا کرنا، مُردوں کو زندہ کرنا، بیماروں کو پھونک مار کر شفا دینا بہت کچھ بیان کرتے ہیں۔لیکن جو معجزات بھی تھے بڑے یا چھوٹے وہ انبیاء کی سنت کے مطابق تھے۔کیا آج ان معجزات میں سے کوئی بھی باقی ہے ؟ حضرت مسیح نے کہا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا اور تم پہاڑوں کو حکم دو گے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں تو تمہارے حکم سے پہاڑ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں گے۔2 مگر کیا ان معجزات میں سے کچھ بھی اب باقی ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا انسان دنیا نے کہاں جنا اور کب جن سکتی ہے۔وہ جو تمام بنی نوع انسان کا مقصود اور مدعا تھا، جس کی خاطر دنیا پیدا کی گئی، جو کرامتیں آپ نے دکھائیں اور جو معجزات آپ سے ظاہر ہوئے صحابہ کرام کی قوت عملیہ ، تقویٰ اور اخلاص سے پتہ لگتا ہے کہ ان کا سکھانے والا کتنا بڑا انسان تھا۔مگر کیا وہ کرامتیں آج مسلمانوں میں نظر آتی ہیں؟ آج وہ کرامتیں اور وہ نشانات مسلمانوں کے دلوں میں بھی گد گدی اور اُن کے دماغ میں بھی ہیجان پیدا کرتے ہیں مگر ایک ذرہ بھر حرکت بھی تو ان میں نہیں پائی جاتی۔آخر یہ کیوں ہے؟ صرف اس لئے کہ بعد میں آنے والی نسلوں نے نشانات دکھانے والے سے تعلق قطع کر لیا۔ورنہ خدا تعالیٰ میں نشان دکھانے کی قدرت تو پھر بھی موجود تھی۔اور نسل بھی موجود تھی۔مگر اس زنجیر کے