خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 207

+1945 207 خطبات محمود اگر سارا دن کام کرنے کے بعد بارہ گھنٹے اور لگتے تھے تو ان کے اندر یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ انہوں نے بارہ گھنٹے یا میں گھنٹے یا چومیں گھنٹے کام کیا ہے اس لئے اب کام ختم کرنے سے پہلے آرام کرنا چاہیے۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ یہ کام کرتے کرتے مر جاتے اور کیا ہوتا؟ پاگل ہی ہیں جو کہا کرتے ہیں کہ مرنے سے بڑھ کر کوئی اور مصیبت ہوتی ہے۔کہتے ہیں کسی مجسٹریٹ نے ایک ملزم کو یہ سزاسنائی کہ اُس کو پھانسی دے دی جائے۔تو وہ کہنے لگا کہ اس سے تو بہتر ہے کہ مجھے مرواہی دیں۔تو اس قسم کی باتیں جاہلوں اور پاگلوں کی طرف تو منسوب کی جا سکتی ہیں مگر ایک واقف جو یہ کہہ کر آتا ہے کہ میں مرنے کے لئے آیا ہوں کیا اس کے منہ سے اس قسم کے لفظ بیہودہ اور پوچ عذر نکلنے زیب دیتے ہیں ؟ ایک شخص کو جو واقف زندگی تھا میں نے کام کے لئے سندھ بھیجا۔چار دن کے بعد وہ بھاگ آیا اور آکر خط لکھ دیا کہ وہاں کام سخت تھا اس لئے میں اس کام کو چھوڑ کر بھاگ آیا ہوں اور اب روزانہ معافی کے خطوط لکھتا رہتا ہے۔حالا نکہ دینی جنگ کے میدان سے بھاگنے والے کو قرآن کریم جہنمی قرار دیتا ہے۔اس کے لئے معافی کیسی؟ یہ تحریک جدید کے واقف زندگی ہیں۔ان کی مثال کشمیریوں کی سی ہے۔جن کے متعلق کہتے ہیں کہ راجہ نے ان کو بلایا اور کہا کہ سرکار کو لڑائی پیش آگئی ہے سرکار نے ہم سے بھی مدد کے لئے فوج مانگی ہے۔میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم بھی لڑنے کے لئے جاؤ۔جو افسر راجہ سے بات کرنے کے لئے آیا تھا اس نے کہا حضور ! آپ کا نمک کھاتے رہے ہیں، آپ کا حکم سر آنکھوں پر ، ساری عمر آپ کا نمک اِسی لئے تو کھاتے رہے ہیں کہ لڑائی کریں۔اگر مہاراج اجازت دیں تو میں ذرا فوجیوں سے بات کر آؤں؟ مہاراج نے اجازت دے دی۔جب فوجیوں سے بات کر کے واپس آیا تو عرض کیا مہاراج! فوج تیار ہے ان کو کوئی عذر نہیں مگر وہ ایک عرض کرتے ہیں۔راجہ نے کہا کیا؟ کہنے لگا حضور ! سنا ہے پٹھانوں کے ساتھ لڑائی ہے۔پٹھان بہت سخت ہوتے ہیں اگر ہمارے ساتھ پہرہ کا انتظام ہو جائے تو ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں۔تو ایسے ہی ہمارے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں۔وہ قربانیوں کے موقع سے ڈرتے ہیں، محنت سے کام کرنے سے ڈرتے ہیں اور پھر وہ اپنے آپ کو واقف زندگی اور مجاہد کہتے ہیں۔اور ہر شخص اپنے