خطبات محمود (جلد 26) — Page 175
+1945 175 خطبات محمود چندہ بھی بھیجا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پیغامی لوگ جو ہمارے مقابلہ میں اپنے ذریعہ مسلمان ہونے والوں کا شور مچایا کرتے ہیں وہ کوئی ایسی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ ان کے ذریعہ ہونے والے نو مسلموں نے ایسی قربانی کا ثبوت دیا ہو اور زکوۃ کی عظمت رکھنے والے نو مسلم ان میں ہوں۔اسی طرح افریقہ میں جو تبلیغ کے خاص سامان پیدا ہو رہے ہیں ان میں سے ایک خاص بات جو خوشی کا موجب ہے یہ ہے کہ لندن سے شمس صاحب کا تار آیا ہے کہ افریقہ کے ایک پیرامونٹ چیف کا لڑکا جو ولایت میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوا ہے وہ احمدی ہو گیا ہے اور اُس نے اپنے باپ کو بھی احمدیت قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور خوشی کی بات ہے جو میں پہلے بیان نہیں کر سکا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے لندن میں ہم نے ایک اور مکان تبلیغ کے لئے خرید لیا ہے جو ہماری مسجد کے ساتھ ملحق ہے۔یہ مکان لندن کی عام قیمتوں کے لحاظ سے ہمیں بہت سستا مل گیا ہے کیونکہ لوگ ڈرتے ہیں کہ بموں وغیرہ کے گرنے سے نقصان نہ ہو۔جس وقت یہ مکان خریدا گیا ہے اُس وقت ہم گر رہے تھے۔لیکن خدا کے فضل سے خریدنے کے بعد بم گرنے بند ہو گئے ہیں۔یہ مکان اکتیس ہزار روپیہ میں آیا ہے اور نو ہزار روپیہ اس کی مرمت پر خرچ ہو گا۔گویا چالیس ہزار میں یہ جائیداد مل گئی ہے۔یہ مکان مسجد کے ساتھ ہی ہے۔در حقیقت یہ مکان اور پہلا مکان ایک ہی زمین میں بنے ہوئے تھے۔ایک حصہ جو ہم نے مسجد کے لئے خرید لیا تھا اس میں مکان چھوٹا تھا اور زمین زیادہ تھی اور دوسرے حصہ میں مکان زیادہ تھا اور زمین تھوڑی تھی۔اور مکان والا متعصب آدمی تھا جو اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ میں خواہ اپنا مکان اور کسی کو دے دوں مگر احمد یوں کو ہر گز نہیں دوں گا۔لیکن آخر خدا تعالیٰ نے اس کے دل سے بغض نکال دیا اور کچھ بموں کے ڈر سے اور کچھ اس وجہ سے کہ اُس کے لڑکے کسی دوسری جگہ چلے گئے اُس نے یہ مکان ساڑھے بائیس سو پونڈ میں ہمارے پاس فروخت کر دیا۔میں سمجھتا ہوں اس میں سات آٹھ مبلغ آسانی سے رہ سکتے ہیں۔ہمارا پہلا مکان بھی سہ منزلہ ہے اور یہ بھی سہ منزلہ ہے۔لیکن یہ ہمارے مکان سے زیادہ وسیع ہے اور اس کے کمرے زیادہ ہیں۔یہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے لئے اس طرح نیا سامان پیدا کر دیا ہے کیونکہ اب ہمارے مبلغوں کے لئے جو وہاں جائیں گے اکٹھے رہنا آسان ہو گا۔میں صرف