خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 176

$1945 176 خطبات محمود اس مکان کو نہیں دیکھتا بلکہ میری نظر اس بات پر بھی ہے کہ یہ ایک خدا تعالیٰ کا نشان ہے۔اور خدا تعالیٰ کے اشارے اس کے عمل سے معلوم ہو رہے ہیں کہ وہ ہمارے جانے والے مبلغوں کے لئے جگہ بنا رہا ہے۔ایک عرصہ تک جبکہ ہماری سکیم میں نئے مبلغ بھجوانے کا کوئی امکان نہیں تھا صاحب مکان مکان نہ دینے پر اڑا رہا حالا نکہ اُس وقت ہم اِس سے زیادہ قیمت دینے پر تیار تھے۔لیکن جو نبی کہ ہم نے یہ سکیم تیار کی کہ انگلستان میں پانچ چھ مبلغ بھیجے جائیں وہ شخص اپنا مکان پہلی پیش کردہ قیمتوں سے کم قیمت پر دینے پر آمادہ ہو گیا۔چنانچہ اس مکان کا سودا ہو چکا ہے، قیمت کا کچھ حصہ ادا کیا جا چکا ہے۔اور باقی حصہ چند دنوں تک ادا کر دیا جائے گا۔اس کے بعد میں اُس ہال کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کی تحریک پہلے کسی سوچی ہوئی تجویز کے مطابق نہیں تھی بلکہ مجلس شوریٰ میں پیش ہونے والی تجویز کے سلسلہ میں تھی۔جن لوگوں نے وہ نظارہ دیکھا ہے غالباً وہ اب تک مزا اٹھا رہے ہوں گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے مجلس شوریٰ کے موقع پر جماعت کے دلوں میں جوش اور اخلاص پیدا کر دیا کہ اس غرض کے لئے اُس وقت جو اندازہ کیا گیا تھا اس سے بھی زیادہ چندہ نقد اور وعدوں کی صورت میں جمع ہو گیا۔اور ابھی باہر سے اور لوگوں کی طرف سے بھی چندے آرہے ہیں اور یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہی لوگ اس ثواب میں شامل ہوں جو اُس موقع پر حاضر تھے اور ہم شامل نہ ہوں؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہر شخص جو ایسے موقع پر جاتا ہے قربانی کر کے جاتا ہے اور جو قربانی کر کے جاتا ہے یقیناً اس کو دوسروں کی نسبت ثواب کا زیادہ موقع ملتا ہے اس لئے یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم نے کوئی اعلان نہیں کیا کہ آئندہ اس بارہ میں چندہ نہیں لیا جائے گا۔جماعت کا ہر فرد جو اس مد میں چندہ لکھوانا چاہے وہ لکھو اسکتا ہے اور پانچ سال کے عرصہ میں ادا کر سکتا ہے۔اگر جلدی ادا کر دے تو زیادہ اچھا ہے ور نہ پانچ سال کے اندر کسی وقت یا قسط وار ادا کر سکتا ہے۔جو تحریک مجلس شوری کے موقع پر کی گئی تھی وہ تحریک ایک وقتی اندازے کے مطابق کی گئی تھی اور اس میں کام کا ایک بڑا حصہ نظر انداز ہو گیا تھا یعنی میں نے شیڈ کا اندازہ لگایا تھا۔لیکن بعد میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ خالی شیڈ (Shed) سے اس قسم کی جلسہ گاہ کا کام نہیں لیا جا سکتا جس میں ایک لاکھ آدمی