خطبات محمود (جلد 26) — Page 146
$1945 146 خطبات محمود اکثریت کا حکام پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔رات میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ ایسی فضول باتوں کا کوئی فائدہ نہیں اور ان میں وقت ضائع نہ کرنا چاہیے۔معاندین کی گالیاں سن کر اگر واقعی کسی کو اشتعال آتا ہے، اگر غیرت آتی ہے، اگر واقعی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قدر دل میں ہے تو اس کے اظہار کا یہ طریق درست نہیں۔بلکہ اس کا طریق دوسرا ہے۔جب کسی کے بیٹے کو ٹائیفائیڈ ہو جاتا ہے تو وہ کس طرح ہیں ہیں دن اور مہینہ مہینہ دکان کو بند کر کے اور کاروبار ترک کر کے اُس کی تیمار داری میں لگ جاتا ہے۔اسی طرح جسے گالیاں سن کر غصہ آتا ہے ، اشتعال پیدا ہوتا ہے، اگر غیرت جوش میں آتی ہے تو چاہیے کہ وہ دفتر تبلیغ میں جائے اور کہے کہ میں نے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں ملتی سنی ہیں جس سے مجھے بہت غصہ آیا ہے اس لئے میں پندرہ دن یا بیس دن تبلیغ کے لئے دیتا ہوں۔اگر قادیان کے احمدی یہ طریق اختیار کریں تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔قادیان میں دس ہزار احمدی ہیں اگر ان میں سے دو ہزار بھی تبلیغ کے لئے پندرہ پندرہ دن دیں تو یہ تیس ہزار بنتے ہیں۔سال کے 360 دن ہوتے ہیں اور اس کے یہ معنے ہوں گے کہ گویا دس آدمی روزانہ تبلیغ میں لگے رہیں گے دس نہیں تو نو ہی سہی، اور اس طرح سلسلہ کو مفت کے نو مبلغ مل سکتے ہیں۔اور ایسے نو آدمی جن کے دلوں پر زخم ہوں۔جن کی غیرت جوش میں آئی ہوئی ہو وہ تو پہاڑوں کو رگر اسکتے ہیں۔پس یہ طریق درست نہیں کہ مسجد میں جمع ہوئے اور اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ کے نعرے لگاتے رہے۔الله اكبر الله اكبر تو روزانہ اذان دیتے ہوئے پانچ بار مسلمان کرتے ہیں پھر اس سے کتنے لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں۔پس مسجد میں جمع ہو کر اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ کے نعرے لگانا اور زندہ باد کا شور مچانا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔یہ تو عورتوں کی گریہ و زاری سا طریق ہے۔جب تم اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہو تو ان کے پیچھے کوئی طاقت نہیں ہوتی اور یہ بالکل ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے بچے جمع ہو کرہا ہو کرتے اور شور مچاتے پھرتے ہیں۔صحیح طریق یہی ہے کہ ارد گرد کے علاقہ کو احمدی کر لو۔پھر اگر آج کے حکام کی نسبت بہت زیادہ بد تر حکام بھی آئیں گے تو وہ یہی کہیں گے کہ جماعت احمد یہ ہر گز ظلم نہیں کر سکتی۔کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ