خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 147

$1945 147 خطبات محمود سارے علاقہ میں ان کی اکثریت ہے اس لئے ان کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔پس یہ صحیح طریق ہے جو ہمارے دوستوں کو اختیار کرنا چاہیے۔رات میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور میں سمجھتا تھا یہ کافی ہے مگر آج صبح مجھے وہ خط ملا جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور وہ بھی میرے ان خیالات کی تصدیق میں ہے۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ وہ ریل میں ایک سرکاری افسر کے ہم سفر تھے جو پہلے سے ان کا واقف تھا۔انہوں نے اُس افسر سے کہا کہ دیکھئے احمدیوں پر یہ کتنا ظلم ہے کہ ان کے صدر مقام میں ان کو گالیاں دی گئی ہیں۔مگر اُس افسر نے کہا کہ احمدیوں کو کوئی گالیاں نہیں دی گئیں۔میں نے سنا ہے کہ گالیاں احمدی دیتے ہیں۔مثلاً احمدی لیکھو کہتے ہیں، مرزا صاحب کو کرشن جی کا مثیل کہا جاتا ہے ، باوا نانک علیہ الرحمہ کو مسلمان کہا جاتا ہے اور احمدیوں کے جلسہ میں لاؤڈ سپیکر مینار پر لگایا گیا۔اُس دوست نے کہا لاؤڈ سپیکر تو احراریوں نے اور آریوں نے بھی لگایا ہوا تھا۔تو اس افسر نے کہا کہ تمہار ا لاؤڈ سپیکر زیادہ طاقتور تھا۔اب دیکھ لو یہ ایک ایسے افسر کے اعتراض ہیں جس کا کام انصاف قائم کرنا ہے۔اور یہ باتیں ایسی ہیں کہ اگر لوگ انہیں سنیں تو یا تو وہ کہیں گے کہ یہ ایک سرکاری افسر پر الزام ہے اور یا یہ کہیں گے کہ یہ بھی عجیب افسر ہے جو یکطرفہ رائے قائم کر رہا ہے۔اور سوال یہ ہے کہ جب موقع کے افسروں کی یہ رائے ہو تو افسران بالا کی کیا رائے ہو گی جو خود موقع پر موجود نہ تھے اور جو ماتحت افسروں کی رپورٹوں کی بناء پر ہی رائے قائم کرتے ہیں۔اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر مجھے مل چکے ہیں اور سلسلہ کے افسر بھی اُن سے کئی بار ملے ہیں اور ان کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بہت ذہین آدمی ہیں۔مگر انگریز حکام عام طور پر اس ذہنیت کے ہوتے ہیں جسے انگریزی میں Least Resistance کہا جاتا ہے۔وہ اپنے آپ کو کم سے کم جھگڑوں میں ڈالنا چاہتے ہیں اور بالعموم اپنے ماتحت افسروں کی بات کو درست سمجھتے ہیں۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو سرکاری افسر ہے اس لئے بے تعلق آدمی ہے۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر افسر کا ایک اپنا مذہب بھی تو ہوتا ہے۔انگریز افسر بے شک مذہب کے بارہ میں مساوات قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اس لئے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستانی افسر بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔یورپ کا عیسائی افسر تو اپنے مذہبی جذبات کو