خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 145

$1945 145 خطبات محمود دوسروں کی طرف سے ہی پیدا ہو۔تو افسر اکثریت کو ناراض کرنے کی جرات نہیں کرتے۔ہمارے دوستوں کا خیال ہے کہ قادیان میں ہماری اکثریت ہے۔مگر یہ خیال غلط ہے۔قادیان کوئی ایسا جزیرہ نہیں جو دنیا سے الگ تھلگ ہو۔یہ تو ضلع کے دو ہزار گاؤں میں سے ایک گاؤں ہے۔یہاں ایک جگہ پر ہماری اکثریت اگر ہو بھی تو حکام اسے نہ دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ ارد گرد کے علاقہ میں کس کی کثرت ہے۔اور چونکہ ارد گرد کے علاقہ میں ہماری اکثریت نہیں اس لئے قادیان میں جو اکثریت ہے اس کی حکام کوئی پروا نہیں کرتے ، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے احمدیوں کی تائید کی تو تمام علاقہ میں جوش پیدا ہو جائے گا اور پھر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف اٹھانی پڑے گی۔اس لئے وہ سارا غصہ اقلیت پر نکالتے ہیں۔ان حالات میں ہماری جماعت کی طرف سے پروٹیسٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔اور اب تک ایسے پروٹیسٹوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔میں سمجھتا ہوں یہ بھی انگریزوں کی خوش قسمتی ہے کہ لوگوں کے قلوب میں ان کی نیک نامی اتنی جاگزیں ہے کہ ہماری جماعت متواتر ہیں سال سے ان کی حکومت کے افسروں کی طرف سے سوتیلے پن کا سلوک دیکھنے کے باوجود یہی خیال کرتی ہے کہ وہ اس کے پروٹیسٹوں سے متاثر ہو جائیں گے۔جب میں سال سے حکام پر ہمارے کسی پروٹیسٹ کا اثر نہیں ہوا تو کیا اب کوئی نئے افسر آگئے ہیں۔جو وہ پروٹیسٹ سے متاثر ہو جائیں گے؟ بے شک بعض افسر زیادہ عقلمند اور انصاف سے زیادہ کام لینے والے بھی ہوتے ہیں مگر وہ سیاسیات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ان کو حکومت کی طرف سے قیام امن کے لئے مقرر کیا جاتا ہے اور اگر وہ انصاف سے کام لیتے ہوئے امن قائم نہیں کر سکتے تو پھر وہ اقلیت کو دبا کر امن قائم کرتے ہیں۔اور مجھے حیرت ہوتی ہے جب ہمارے دوست گزشتہ سالہا سال کی تاریخ کو بھلا کر حکام کے پاس پروٹیسٹ کے لئے جاتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ بندہ خدا! کس کے پاس پروٹیسٹ کرتے ہو اور اس پروٹیسٹ کا اثر کیا ہو سکتا ہے جبکہ تم اقلیت میں ہو۔میں 1934ء سے جماعت کو یہ بتا رہا ہوں کہ تم چونکہ اقلیت میں ہو اس لئے تمہاری آواز کا حکام پر اثر نہیں ہو سکتا۔اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیان میں ہماری اکثریت ہے وہ بھی غلطی پر ہیں۔قادیان کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں بلکہ وسیع علاقہ کا ایک ٹکڑہ ہے۔اس لئے جب تک ارد گرد ہماری اکثریت نہ ہو یہاں کی