خطبات محمود (جلد 26) — Page 138
+1945 138 خطبات محمود دیکھا ہو کہ اس میں طوفان اٹھ رہا ہو ، بجلیاں چمک رہی ہوں، سمندر کا پانی جہاز کے اوپر سے گود گود کر اسے اپنی گود میں لے رہا ہو۔جہاز ڈوب جائے اور یہ شخص سمندر میں غوطے کھاتا ہوا بچنے کی کوشش کر رہا ہو۔لیکن نہ دائیں اور نہ بائیں، نہ آگے اور نہ پیچھے بچاؤ کا کوئی سامان نظر نہ آتا ہو۔اس کے دائیں بھی پہاڑ کی سی ایک لہر اُٹھ رہی ہو اور بائیں بھی پہاڑ کی سی ایک لہر اٹھ رہی ہو۔اس کے سامنے بھی پہاڑ کی سی ایک لہر اٹھ رہی ہو اور پیچھے بھی پہاڑ کی سی ایک لہر اٹھ رہی ہو۔اور یہ سمجھ رہا ہو کہ اس کے ساتھیوں کو سمندر کھا گیا ہے اور ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا۔حالانکہ واقع یہ ہو کہ اس سے دس فٹ کے فاصلہ پر یہی جذبات اُس کے ساتھی کے دل میں پیدا ہو رہے ہوں گے اور اِن دونوں کو ایک دوسرے کا پتہ نہیں ہو گا کیونکہ ان کے در میان پہاڑ کی سی ایک بہر حائل ہو گی۔یہ تمام نظارے جب تک کسی شخص نے سمندر کا سفر نہ کیا ہو اُس وقت تک اس کے قیاس میں بھی نہیں آسکتے۔اسی طرح بہت سے انسان آسمان کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح مقیش 3 والے دوپٹہ کی طرف دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں که آسمان ایک نیلی چادر ہے جس میں سفید سفید مقیش لگی ہوئی ہے اور وہ اس کی بیک گراؤنڈ (Background) پر نظر نہیں کرتے۔اور اس احساس سے آسمان پر غور نہیں کرتے کہ اس کے پیچھے کیا ہے۔اور غور نہیں کرتے کہ در حقیقت ان گنت میلوں وسیع علاقہ میں یہ ستارے پھیلے ہوئے ہیں اور آسمان میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جس طرح ایک پھدڑ 4 ایک وسیع سمندر میں تیرتی پھرتی ہو۔پس جب تک کوئی شخص ان تمام باتوں پر غور نہ کرے وہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اندازہ کس طرح لگا سکتا ہے۔آجکل کے مسلمانوں نے ان باتوں پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن اس زمانہ میں جب کہ نہ تاریں تھیں اور نہ ریلیں ایک مسلمان عرب سے اٹھتا تھا اور بغیر روپیہ اور بغیر سامانوں کے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھر جاتا تھا۔ابن بطوطہ سپین سے چلا اور افریقہ کا دورہ کرتا ہوا مڈل ایسٹ میں سے ہوتا ہوا ایران آیا۔ایران سے افغانستان اور افغانستان سے ہندوستان اور ہندوستان سے پھر چین پہنچا اور پھر اپنے ملک واپس جا کر ایک کتاب لکھی اور اُس زمانہ کے حالات کا حیرت انگیز نقشہ کھینچا۔گو بعض باتیں اس نے ایسی بھی لکھی ہیں کہ اُن میں