خطبات محمود (جلد 26) — Page 137
خطبات حمود 137 $1945 ساری عمر اس انتظار میں گزار دی کہ کب استاد مرے اور مجھے اس کی جگہ ملے۔پس قرآن مجید نے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ 2 کہہ کر ایک طرف یہ اشارہ فرمایا ہے کہ جس کام کا کوئی نتیجہ اور کوئی فائدہ نہ ہو وہ لغو ہے اُس سے مومن کو اعراض کرنا چاہیے اور دوسری طرف یہ ارشاد فرمایا ہے کہ سمندروں اور دریاؤں کی سیر کرو، صحراؤں اور میدانوں کو دیکھو اور دنیا کے حالات پر غور کرو جس سے معلوم ہوا کہ یہ کام لغو نہیں بلکہ ان کو دیکھنے سے علوم حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً قرآن مجید میں یہ ذکر آتا ہے کہ قافلے صحراؤں میں رستہ بھول جاتے ہیں اور صحرا میں چلتے چلتے انسان اپنے سامنے دیکھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ سامنے جھیل ہے اور چمکتا ہوا پانی اسے نظر آتا ہے مگر جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھیل نہیں بلکہ سفید ریت ہے۔اور چمکتا ہوا پانی نہیں بلکہ سورج کی شعاعیں ہیں جو ریت کے اوپر تپ رہی تھیں۔اور ایسے رنگ میں ریت پر روشنی ڈال رہی تھیں کہ دور سے دیکھنے والا اسے پانی سمجھتا تھا۔ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہوتا ہے جو جھوٹی دنیا اپنے دل میں بساتے ہیں اور جھوٹی امیدیں اور جھوٹی امنگیں اور جھوٹے مقاصد کو اپنے سامنے رکھ کر ان کو حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی عمر کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے اور ان کی امیدیں اور امنگیں سراب کی طرح ثابت ہوتی ہیں۔جس طرح سراب کو دور سے پانی سمجھنے والا جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو پانی کی بجائے چپکتی ہوئی ریت پاتا ہے اسی طرح وہ شخص جو جھوٹی امیدوں اور جھوٹی امنگوں میں اپنی ساری عمر گزار دیتا ہے زندگی کے خاتمہ پر مایوسی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔اور اس کی تمام امیدیں اسے سراب معلوم ہوتی ہیں جسے وہ پانی سمجھ رہا تھا۔اب یہ نظارہ ایک لاہور میں رہنے والا کس طرح قیاس میں لا سکتا ہے جس نے کبھی سراب دیکھا ہی نہیں کہ کس طرح صحرا کی ریت دور سے شفاف پانی نظر آتی ہے جس کو دیکھ کر پیاسا آدمی اس کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔جب اس نے یہ نظارہ دیکھا ہی نہیں تو وہ قرآن مجید کے اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش میں ناکام رہے گا اور خیال کرے گا کہ قرآن مجید کوئی ایسی بولی بول رہا ہے جسے میں نہیں سمجھ سکتا۔اسی طرح قرآن مجید میں کافر کی زندگی کو جو سمندر کے طوفان سے مشابہت دی گئی ہے اس مثال کو وہ شخص کس طرح سمجھ سکتا ہے جس نے کبھی سمندر نہ