خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 139

+1945 139 خطبات محمود مبالغہ معلوم ہو تا ہے۔اور بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو بظاہر اُس زمانہ کے لحاظ سے صحیح معلوم نہیں ہو تیں۔لیکن ممکن ہے اس قسم کی باتیں اُس زمانہ میں ہوتی ہوں۔تو مسلمان نکلتے تھے اور دنیا کے کونوں میں پھیل جاتے تھے۔اس لحاظ سے دیکھیں تو لاہور کی جماعت کی ترقی بالکل محدود اور کیلے سے بندھی ہوئی نظر آتی ہے۔حالانکہ ہماری مثال تو اُس بادل کی ہے جو کبھی ایک جگہ پر نہیں ٹھہرتا۔کبھی تم نے دیکھا ہے کہ بادل کیلے سے بندھا ہوا ہو ؟ لیکن وہ شخص جو اپنے ماحول سے باہر نہیں نکلتا اور کیلے سے بندھا رہتا ہے۔گھر سے دفتر چلے جانا اور دفتر سے گھر آ جانا یہی اُس کی زندگی ہے۔وہ ہر جگہ برسنے والا بادل نہیں بلکہ پنجرے کا قیدی ہے۔وہ طوطا یا بَيًّا 5 ہے جو کبھی اپنے قفس سے باہر نہیں نکلا۔حالانکہ مومن تو ان بادلوں کی طرح ہوتا ہے جو ایک وقت کلکتہ پر برس رہے ہوں تو دوسرے وقت کراچی پر موسلا دھار بارش برسا رہے ہوں۔پس جب تک یہ بیداری پیدا نہ ہو ، جب تک مومن کی یہ حالت نہ ہو کہ اُس کو ایک جگہ پر بیٹھنا دو بھر معلوم ہو اُس وقت تک صحیح رنگ میں تبلیغ بھی نہیں ہو سکتی۔صحیح تبلیغ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مومن کے اندر ایسا مادہ پایا جائے جو اسے کبھی نچلا نہ بیٹھنے دے۔اور وہ یہ سمجھے کہ اگر ایک منٹ کے لئے بھی میری حرکت بند ہو گئی اور میں بیٹھ گیا تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے بھی تھے تو چل پھر کر۔آپ دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کمرے کے اندر چلتے جاتے تھے اور لکھتے جاتے تھے۔مولوی برہان الدین صاحب ذکر کیا کرتے تھے کہ جوانی میں ہم نے سنا کہ قادیان میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو قرآنی علوم کا بڑا ماہر ہے اور اُس نے آریوں اور عیسائیوں کو ان کے اعتراضات کے خوب جواب دیئے ہیں۔اُس وقت ابھی حضور علیہ السلام نے دعویٰ نہیں فرمایا تھا۔جب ہم نے آپ کا ذکر سنا تو خواہش پیدا ہوئی کہ اس شخص کی زیارت ضرور کرنی چاہیے۔چنانچہ میں جہلم سے چل پڑا اور قادیان پہنچا۔قادیان آکر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی کام کی وجہ سے گورداسپور تشریف لے گئے ہیں۔میں بھی گورداسپور چلا گیا اور پوچھ پاچھ کر اُس مکان پر پہنچا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہرے ہوئے تھے۔کمرے کے دروازے پر چک لٹک رہی تھی اور باہر شیخ حامد علی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے