خطبات محمود (جلد 26) — Page 87
$1945 87 خطبات محمود کے دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ میں خدا کے لئے نماز پڑھتا ہوں اُس وقت تک اگر اس کے ماں باپ اُس کو نماز پڑھاتے ہیں تو اُس کا ثواب اُس کے ماں باپ کو ملے گا۔اور اگر بورڈنگ کاسپر نٹنڈنٹ نماز پڑھاتا ہے تو اس نماز کا ثواب سپر نٹنڈنٹ کو ملے گا۔اور اگر اس بچے کے ماں باپ اس کو نماز پڑھانے میں کو تاہی کرتے ہیں یا سپر نٹنڈنٹ نماز پڑھانے میں کو تاہی کرتا ہے تو بچے سے پرسش نہیں ہوگی کہ تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی۔بلکہ اُس کے ماں باپ یا سپر نٹنڈنٹ سے پرسش ہو گی کہ کیوں تم نے نماز نہیں پڑھی۔یعنی کیوں تم نے بچے سے نماز نہیں پڑھوائی۔لیکن جس وقت بچے کے دل میں احساس پید اہو جائے کہ میرا ایک مالک اور آقا ہے اور میں نے اس کی عبادت کرنی ہے اور اس سے اپنے تعلقات بڑھانے ہیں اور اس کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کرنا ہے اُس وقت سے اس کی نماز اس کی ہو جاتی ہے خواہ اس کی عمر چار پانچ سال کی ہو یا دس سال کی ہو یا بارہ سال کی ہو۔جس وقت یہ احساس پیدا ہو جائے گا اُس وقت سے اُس کی نماز ہو گی۔اُس سے پہلی اس کی نماز نہیں بلکہ اس کے ماں باپ یا بورڈنگ کے سپر نٹنڈنٹ کی نماز ہو گی۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس وقت بچے میرے سامنے بیٹھے ہیں۔یہ میں تعیین نہیں کرتا کہ بچے کی نماز کس وقت سے شروع ہوتی ہے کیونکہ بعض بچے بڑے ذہین ہوتے ہیں اور بعض کم ذہین ہوتے ہیں۔بعض بچے چودہ پندرہ سال کے ہو کر بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے پانچ چھ سال کا بچہ اور بعض پانچ چھ سال کے بچے ایسے ذہین ہوتے ہیں جیسے چودہ پندرہ سال کا نوجوان۔اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو چھ سات سال کی عمر میں اٹھارہ انیس سال کی عمر والوں سے بھی زیادہ ذہین اور زیادہ عقلمند ہوتے ہیں۔امام شافعی کی نسبت آتا ہے وہ کہتے تھے میں چھ سات سال کی عمر کا تھا جبکہ اچھی طرح قرآن مجید سمجھنے لگ گیا تھا۔اور وہ نو سال کے تھے جب انہوں نے گھر کی تعلیم ساری حاصل کر لی۔اور بارہ تیرہ سال کی عمر میں امام مالک کے پاس جا کر ان کے شاگر د ہو گئے۔امام مالک نے اپنے شاگردوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب وہ مجلس میں سبق پڑھنے کے لئے آئیں تو کاپیاں اور قلم دوات لے کر آئیں اور جو سبق میں انہیں پڑھاؤں اسے لکھیں۔جب امام شافعی وہاں پہنچے تو