خطبات محمود (جلد 26) — Page 86
1945 86 خطبات محمود اور پھر وہاں سے اس کا اور سامان اور قالین وغیرہ منگواؤں گا۔اور پھر کچھ سامان بنگال وغیرہ کی طرف بھیجوں گا اور اس طرح تجارت کر کے بہت سا روپیہ کماؤں گا۔تو یہ خیالی سکیم بناتا ہو اوہ گھر سے آیا اور جب نماز میں کھڑا ہوا تو وہی خیالات دماغ میں جاری رہے۔منہ سے کہہ رہا تھا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمين 1 اور دماغ کبھی قالین خرید نے بخارا جارہا تھا اور کبھی بنگال کی طرف تجارت کرنے جا رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے کشف میں یہ نظارہ بابا صاحب کو دکھا دیا اور انہوں نے امام کے پیچھے نماز چھوڑ کر الگ پڑھنی شروع کر دی۔اور جب امام نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت! آپ تو قوی آدمی ہیں آپ نے لمبے لمبے سفر شروع کر دیئے میں کمزور آدمی ہوں آپ کے پیچھے پیچھے مجھ سے بخارا اور بنگال نہیں جایا جاتا۔اس لئے میں نے الگ نماز پڑھ لی۔تو انسان اپنے جذبات میں اسی طرح بہنے کا عادی ہوتا ہے۔جس کو مار پیٹ کر نماز پڑھائی جائے گی اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خیال آئے گا کس طرح۔اُس کے دل میں تو شکوے گلے چلتے چلے جائیں گے کہ فلاں شخص نے مجھے مار کر نماز پڑھائی ورنہ میں کیوں پڑھتا۔نماز تو اُسی کی ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے پڑھے گا۔جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے نماز پڑھے گا اس کے دل میں الہی محبت کے خیالات پیدا ہوں گے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں سوز و گداز پیدا کرے گی۔اور اس کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے گا۔ورنہ یہ چیز اگر اس کے دل میں نہیں ہو گی تو اس کے دل میں جس قسم کے خیالات ہوں گے نماز میں بھی وہ خیالات اُسے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔امام بے شک الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمین اور ملِكِ يَوْمِ DOWNLOAD 2 پڑھ رہا ہو گا مگر یہ اس کے پیچھے کھڑا اپنے خیالات کی دنیا میں بہتا چلا جائے گا اور اس کی نماز صرف ظاہری نماز ہوگی باطنی نہیں ہو گی۔پس دین کے ایسے کام جو جبر سے کرائے جائیں وہ کبھی بھی نفع رساں نہیں ہوتے۔بچوں پر جبر کرنا بے شک جائز ہوتا ہے تاکہ انہیں عادت ڈالی جائے۔بچے کے ماں باپ اگر اس پر جبر کر کے نماز پڑھاتے ہیں یا بورڈنگ کا سپر نٹنڈنٹ جبر کر کے نماز پڑھاتا ہے تو وہ نماز بچے کی نماز نہیں ہوتی بلکہ اُس کے ماں باپ یا بورڈنگ کے سپر نٹنڈنٹ کی ہوتی ہے۔جب تک بچے