خطبات محمود (جلد 26) — Page 88
$1945 88 خطبات محمود سینکڑوں شاگر د امام مالک کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھے تھے۔یہ ان میں سے گزر کر آگے آکر بیٹھ گئے۔کسی نے انہیں بچہ ہونے کے لحاظ سے کچھ نہ کہا کہ بچہ ہے جہاں چاہے بیٹھ جائے۔دو تین دن بیٹھے رہے امام مالک کی نظر ان پر پڑی تو انہوں نے کہا بچے! تم یہاں کیا کرتے ہو ؟ کہنے لگے میں آپ کا شاگر د بنا ہوں اور سبق پڑھتا ہوں۔امام مالک نے کہا سبق، تم نے سبق کیا پڑھنا ہے یہ دوسرے لوگ جو سبق پڑھ رہے ہیں قلم دوات اور کاپیاں ان کے پاس ہیں اور وہ سبق ساتھ کے ساتھ لکھتے جا رہے ہیں مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لکھتے لکھاتے کچھ نہیں تم کیا سبق پڑھو گے۔امام شافعی نے جواب دیا کہ ان کو لکھنے کی حاجت ہو گی اس لئے یہ لکھتے ہیں مجھے لکھنے کی حاجت نہیں۔امام مالک نے سمجھا بچپن کی شوخی کی وجہ سے ایسی بات کرتا ہے۔لیکن امام شافعی نے ان سے کہا کہ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو تجربہ کر لیجئے۔ابھی جب آپ اپنے شاگردوں سے سبق سنیں گے تو میں آپ کو بتاتا جاؤں گا۔امام مالک با قاعدہ اپنے شاگردوں سے سبق سنا کرتے تھے کہ کل میں نے کیا بیان کیا تھا۔جب انہوں نے ایک شاگر د سے سننا شروع کیا تو امام شافعی نے اس کو ٹوکنا شروع کیا۔پیشتر اس کے کہ امام صاحب اُس شاگرد کی غلطی نکالتے امام شافعی اُسے ٹوک دیتے کہ یوں نہیں امام صاحب نے یوں بتایا تھا اور وہ ٹھیک ہو تا۔یہ دیکھ کر امام مالک نے کہہ دیا کہ تم کو یہ شرط معاف ہے۔تم کو کاپی اور قلم دوات کی ضرورت نہیں۔لیکن ہر آدمی تو شافعی نہیں بن جاتا۔ہر شخص الگ الگ ذہن کا مالک ہوتا ہے۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ کونسی عمر میں بچہ کی نماز اس کی نماز ہوتی ہے۔اگر اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ میں خدا کی نماز پڑھتا ہوں، اگر اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ نماز کا چھوڑ دینا اس سے زیادہ خطر ناک ہے جتنا کہ مر جانا، اگر اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ نماز کے ذریعہ میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں تو جس عمر میں بھی یہ احساس پیدا ہو جائے اُس عمر میں اُس کی نماز اس کی ہو جاتی ہے ماں باپ یا سپر نٹنڈنٹ کی نماز نہیں رہنی چاہیے۔چار پانچ سال کے بچے کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے تو یہ بات اس کے متعلق نہیں کہ اس کی نماز اپنی نماز نہیں ہوتی۔بلکہ اس کے متعلق ہے جس کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ میں خدا کی نماز پڑھتا ہوں بلکہ ماں باپ نے کہا کہ نماز پڑھ تو میں نے نماز پڑھی۔