خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 372

$1945 372 خطبات محمود جد وجہد کرتے ہیں، یا مذہب کے لئے جانیں دینے کو تیار ہو جاتے ہیں اُن کی قربانیاں بھی ظاہری ہیں۔ایمان سے ان کو دور کا تعلق بھی نہیں۔اگر کوئی شخص پرائیویٹ طور پر ان سے ملے تو وہ یقینا محسوس کرے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ان کے دلوں میں ذرہ بھر بھی نہیں۔ایسے حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف بہت زیادہ توجہ کرنی چاہیے اور قربانیوں میں پہلے کی نسبت بہت زیادہ ترقی کرنی چاہیے۔ہماری جماعت کا ہر شخص جو دین کے لئے قربانی نہیں کرتا اور پوری طرح جد و جہد سے کام نہیں لیتا، دشمن کے مقابلہ کے لئے تیاری نہیں کرتا اور سستی سے کام لیتا ہے اُس کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان نہیں۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ جو وعدے کرتا ہے وہ آپ ہی آپ پورے نہیں ہو جایا کرتے۔بلکہ بندوں کی ہمت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔قصہ مشہور ہے کہ ایک بزرگ کے پاس کوئی شخص آیا اور کہا کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی آپ دعا کریں۔انہوں نے کہا بہت اچھا میں دعا کروں گا۔اس کے بعد وہ اُٹھ کر چل پڑا۔مگر جس طرف سے آیا تھا اُس طرف نہ گیا بلکہ دوسری طرف چل پڑا۔اُس بزرگ نے بلا کر پوچھا۔میاں اُدھر کیوں جار ہے ہو گھر کیوں نہیں جاتے؟ اُس نے کہا کہ میں فوج میں ملازم ہوں، چھٹی پر آیا تھا اور اب واپس فوج میں جارہا ہوں۔اُس بزرگ نے کہا اگر تم فوج میں جارہے ہو تو پھر میری دعا سے کچھ نہیں بنے گا۔میری دعا تو تبھی قبول ہو سکتی تھی جب تم گھر کو جاتے۔تو یہ خدائی قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے قانون کی پابندی کرتا ہے اور اس کے اکثر وعدوں کے پورا کرنے کے لئے انسانی جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یہ نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کنعان کے لوگوں کو رسیوں میں باندھ کر موسیٰ کے ساتھیوں کے سپر د کر دیا ہو۔بلکہ یہی حکم ہوا کہ اپنی قوم کو لے کر جنگلوں کی طرف چلے جاؤ تا کہ ان میں جفاکشی اور بہادری کا مادہ پیدا ہو۔وہ ایک لمبے عرصہ تک جنگلوں میں تکالیف برداشت کرتے اور تنگی کی حالت میں دن بسر کرتے رہے۔وہ شہری لوگ تھے ، آرام و آسائش کے عادی تھے ، ان کو کھانا نہیں ملتا تھا، پیاس کی تکلیف ستاتی تھی۔شہروں کے رہنے والے یہ تکالیف کہاں برداشت کر سکتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام