خطبات محمود (جلد 26) — Page 373
$1945 373 خطبات حمود ان کو رعمسیس 2 جیسے شہر سے نکال کر لائے تھے۔ان شہری لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی فتوحات کا وعدہ یاد دلاتے اور ان کی کمر ہمت کو مضبوط کرتے۔جب وہ بھوکے رہتے رہتے کمزور ہو گئے، پیاسے رہتے رہتے نڈھال ہو گئے اور گھر سے بے گھر آوارہ جنگلوں میں پھرتے پھرتے تنگ آگئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھنے لگے کہ فتح کا دن کب آئے گا اور ہمیں کب چین اور آرام نصیب ہو گا؟ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا یہ جرار فوج جو تمہارے سامنے کھڑی ہے اسے مار لو تو فتح تمہاری ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے کہا عجیب بات ہے۔دس پندرہ سال تک تو ہمیں جنگلوں میں مارے مارے لے کر پھر تارہا اور اب کہتا ہے یہ فوج کھڑی ہے اسے مار لو تو فتح تمہاری ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کدھر گیا ہے کہ تم اس زمین کے وارث ہو گے۔اور تو ہمیں بجائے اپنے ملک کے دوسرے ملک میں لے آیا ہے۔ہم گھر سے بے گھر ہو گئے ہیں، ہم نے بے شمار تکالیف برداشت کی ہیں اور اب تو ہمیں یہ کہتا ہے کہ جاؤ دشمن کو مار لو اور ملک تمہارا ہے۔ان خیالات کی وجہ سے وہ اس قدر جوش میں آگئے کہ موسیٰ کو مخاطب کر کے بول اٹھے اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قعِدون 3 اے موسیٰ! کیا تو ہم سے تمسخر کرتا ہے کہ اس قوم پر فتح حاصل کر لو تو یہ زمین تمہاری ہے ؟ اگر ہم نے ہی سب کچھ کرنا تھا تو خدا تعالیٰ کے وعدے دینے کی کیا ضرورت تھی۔اب جاتو اور تیرا خدا لڑتے پھر وہم تو یہ بیٹھے ہیں۔ہم نے جنگ کر کے دشمن سے ملک فتح کرنے کی نیت سے وطن نہ چھوڑا تھا ہم تو ان وعدوں کے دھوکے میں آگئے جو ہمیں دیئے گئے تھے۔در حقیقت وہ ایک شدید غلط فہمی میں مبتلا تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بندوں کو کچھ کرنا نہیں پڑتا۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم تکلیفیں اٹھاتے ہوئے کنعان کے دروازہ تک پہنچ گئے ہیں اب اللہ تعالیٰ کو چاہیے کہ وہ پہلے لوگوں کو مار دے اور ہمیں اس زمین کا وارث کر دے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا تو یہ مطلب تھا کہ جس قوم سے اُن کا مقابلہ تھا وہ اپنے پاس ظاہری ساز و سامان بہت زیادہ رکھتی تھی اور اس کے پاس فتح حاصل کرنے کے تمام قسم کے سامان موجود تھے۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بالکل