خطبات محمود (جلد 26) — Page 274
+1945 274 (22) خطبات محمود زندگی کے تین ادوار بچپن ، جوانی اور بڑھاپا (فرمودہ 13 جولائی 1945ء بمقام بیت الفضل ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے لئے ایک عمر مقرر کی ہے اور پھر اس عمر کے کئی حصے بنائے ہیں۔پہلے کمزوری کا دور ہوتا ہے پھر طاقت کا دور ہوتا ہے اور پھر ضعف کا دور ہوتا ہے۔قوت نامیہ 1 رکھنے والی چیزیں ہمیشہ سے اسی قانون کے ماتحت چل رہی ہیں۔اور اگر وہ اپنی حیات طبعی کے نیچے چلیں تو ان پر یہ تینوں ادوار گزرتے ہیں۔بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو حیاتِ طبعی کو حاصل نہیں کرتیں۔اور بعض وجود دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی حقیقی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔جیسے انسانوں میں عورتوں کے اور دوسرے جانوروں میں ماداؤں کے حمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ابھی پیدا ہونے والی چیز اپنا حقیقی وجود حاصل نہیں کرتی کہ تلف ہو جاتی ہے۔پھر بعض ایسے وجود بھی ہوتے ہیں جو حقیقی وجود حاصل کرنے کے بعد اور اپنی کامل شکل اختیار کرنے کے بعد اپنے قومی اور اپنی طاقتوں کو ظاہر نہیں کر سکتے۔جیسے بعض بچے پورے حمل میں ضائع ہو جاتے ہیں یا مردہ بچے پیدا ہو جاتے ہیں یا پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔پھر کچھ وجود ایسے بھی ہوتے ہیں جو کامل وجود کو حاصل کر لینے کے بعد اُن قویٰ اور طاقتوں کو ظاہر بھی کرنے لگتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ان کے اندر پیدا کی ہوتی ہیں۔لیکن ابھی کمزوری ہی کا دور ہوتا ہے کہ وہ مر جاتے ہیں۔خواہ وہ وجود انسانوں میں سے