خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 275

$1945 275 خطبات محمود ہوں یا جانوروں میں سے۔جیسا کہ بعض لوگوں کے بچے چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتے ہیں۔پھر کچھ وجود ایسے ہوتے ہیں جو اس عمر سے ترقی کر کے جوانی کو پہنچتے ہیں لیکن پیشتر اس کے کہ جوانی اپنے کمال کو پہنچے وہ جوانی کے ابتدا میں یا درمیان میں ہی مر جاتے ہیں۔لیکن کچھ طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو زندگی کے ان تینوں دوروں میں سے گزرتا ہے۔یعنی بچپن سے بھی گزر جاتا ہے، جوانی سے بھی گزر جاتا ہے اور بڑھاپے کا زمانہ بھی اُس پر آتا ہے۔اور وہ بڑھاپے میں اپنی زندگی کا کچھ حصہ جو اُس کے لئے مقدر ہوتا ہے گزارتا ہے۔یہ تینوں دور اپنے اندر الگ الگ رنگ رکھتے ہیں۔اور یہ تینوں دور ایسے ہیں جو اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کچھ خرابیاں بھی ہیں۔بچپن کی خرابیاں ہمیشہ جہالت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔چونکہ اس عمر میں انسان کو علم نہیں ہو تا کہ وہ کیا کر رہا ہے اس لئے ایسی حرکات کر بیٹھتا ہے جو اُس کی ذات کے لئے بھی مضر ہوتی ہیں اور دوسروں کے لئے بھی۔اسی طرح علم نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات وہ جہالت کی باتوں کو سن کر انہیں علم سمجھ لیتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کی مَوْلُودٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ يُهَوّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِه - 2 یعنی بچہ تو فطرتاً اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کی غلط باتیں اس کے کان میں ڈالتے رہتے ہیں۔اور بچپن کی وجہ سے چونکہ اُس کے اندر امتیاز کرنے کا مادہ نہیں ہو تا اِس لئے وہ ان باتوں کو قبول کر لیتا ہے۔خواہ وہ باتیں فطرت کے خلاف ہوں، خواہ عقل کے خلاف ہوں اور خواہ دیانت کے خلاف ہوں۔تو یہ بچپن کی کمزوری ہے۔بچپن میں تجربہ نہیں ہوتا اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے بچہ غلط اور صحیح بات میں امتیاز کرنے کی قابلیت کم رکھتا ہے۔لیکن ساتھ ہی بچپن کی عمر میں بعض خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔بچپن کی عمر کا موجودات کے ساتھ پہلا تعلق ہوتا ہے اس لئے بچے جو علم بچپن میں سیکھ سکتے ہیں وہ بڑے ہو کر نہیں سیکھ سکتے۔اس کا تجربہ یوں ہو سکتا ہے کہ دو آدمیوں کو لے کر شہر میں سے گزرو۔ان میں سے ایک ایسا ہو جو اُسی جگہ پید اہو اہو اور دوسرا ایسا ہو جو باہر سے آیا ہو۔تو تم دیکھو گے کہ باہر سے آنے والا کئی ایسے سوالات کرے گا جو اُس جگہ کے رہنے والے کے دل میں کبھی پیدا نہیں ہوتے۔