خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 375

$1945 375 خطبات محمود لڑنے کے لئے تیار نہ ہوں اور خواہ دشمن کتنا ہی زیادہ ہو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور ہم دشمن پر فتح حاصل کر لیں گے۔آخر جنگ ہوئی اور اس میں کرشن جی کو فتح نصیب ہوئی۔باوجود اس کے کہ کو رو طاقت کے لحاظ سے ان سے بہت بڑھ کر تھے۔کرشن جی کو اس لئے فتح حاصل ہوئی کہ وہ راستی پر تھے اور ان کے دشمن جھوٹ کے حامی تھے۔ایسے موقعوں پر لڑائی وہی جیتا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کا بندہ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے لئے غیر معمولی سامان پیدا کر دیتا ہے۔ہر نبی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک اس کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس کے ماننے والے اپنے دشمنوں پر غالب آتے ہیں۔لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء کے ماننے والوں کو لڑائی بھی نہ لڑنی پڑے اور آسمان سے فرشتے اتر کر اُن کے لئے فتح کے سامان پیدا کر دیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کو بھی قربانیوں کے بعد غلبہ عطا کیا گیا اور یہی حال ہماری جماعت کا ہے۔بلکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں سے بڑھ کر قربانیاں کرنی پڑیں گی۔کیونکہ جن سے ہمارا مقابلہ ہے وہ بہت زیادہ تعداد، بہت زیادہ طاقت اور بہت زیادہ ذرائع رکھتے ہیں یہ نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کے دشمنوں کے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کا مقابلہ آٹھ دس لاکھ آدمیوں سے تھا لیکن ہماری جماعت کا مقابلہ چالیس کروڑ سے ہے۔جس گورنمنٹ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا مقابلہ ہو اوہ اتنی طاقتور نہیں تھی جتنی طاقتور وہ حکومتیں ہیں جو ہمارے زمانہ میں ہیں۔مقابلہ سے میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری گورنمنٹ سے لڑے تھے بلکہ وہ حکومت کے ذریعہ دق کئے جاتے۔ورنہ وہ خود حکومت کے ساتھ ٹکر لینا نہیں چاہتے تھے۔جس طرح مسیح ناصری علیہ السلام نے لڑائی نہیں کی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لڑائی نہیں کی۔جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے کہا کہ میں حکومت کا فرمانبردار ہوں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں حکومت کا فرمانبر دار ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی حکومت کے خواہاں نہیں ہوتے اور نہ ہی حکومت سے لڑائی کرنا پسند کرتے ہیں۔لیکن حکومت ان کو باغی قرار دیتی ہے اور ان کو