خطبات محمود (جلد 26) — Page 374
+1945 374 خطبات حمود بے سر و سامان تھے اور ان کے پاس ظاہر کوئی چیز ایسی نہ تھی جو فتح کو قریب لانے والی ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا عمالقہ کی قوم پر فتح حاصل کرنا ایسا ہی تھا جیسے چوہا بلی کو مارے۔عمالقہ قوم کی شام و کنعان پر حکومت تھی اور وہ بہت زیادہ قوت و شوکت رکھتی تھی اور نہایت جابر قوم تھی۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی اینٹیں پاتھنے والے غلامی کی زندگی بسر کرنے والے اور سیاست سے بالکل جاہل اور ناواقف تھے۔باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ جاہل اور ناواقف اور غلامی کی زندگی بسر کرنے والی قوم کو اُس کے دشمنوں پر غالب کر دے گا اور عمالقہ کی زمین کا وارث کر دے گا۔اور یہ سینکڑوں سال تک غلام رہنے والی قوم جس نے کبھی تلوار نہیں چلائی تھی اور غلامی کی زنجیروں میں مقید تھی قوم عمالقہ پر جو تلوار کی دھنی تھی اور ہر قسم کے ساز و سامان اس کے پاس موجود تھے غالب آجائے گی۔مگر یہود نے ناواقفی سے یہ سمجھا کہ بغیر لڑائی کے فتح حاصل ہونے کا وعدہ ہے۔اور انکار کر کے تباہ ہو گئے اور ملک اگلی نسل نے جا کر فتح کیا جو اس غلطی کو سمجھ گئی۔پس خدا تعالیٰ کا ہاتھ عمالقہ کو مارنے میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ کمزور قوم کو غالب قوم پر فتح دینے میں ظاہر ہوا۔آج بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتا اور یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے خود بخود بغیر ہماری کوششوں کے پورے ہو جائیں گے تو وہ بھی اپنے عمل سے یہی کہتا ہے کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِدَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ کہ جاتُو اور تیر ارب جاکر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔جو کچھ موسیٰ کے وقت میں ہو اوہی کچھ ہر نبی کے زمانہ میں ہوا ہے۔ہندوؤں میں حضرت کرشن کو جو لڑائی لڑنی پڑی وہ خود کرشن جی، ارجن جی، پانڈوؤں اور ان کے ساتھیوں نے لڑی۔یہ نہیں ہوا کہ بجائے ان کے لڑنے کے فرشتے آسمان سے نازل ہوئے ہوں۔اس خطرناک لڑائی کی وجہ یہ تھی کہ کورو نے حق کو چھوڑ دیا۔اور کج روی اختیار کی۔لیکن جب دونوں فریق صف آراء ہوئے تو دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔اور خود پانڈو جن کے حق کے لئے یہ لڑائی لڑی جارہی تھی جی چھوڑ رہے تھے۔اس پر ارجن جی نے کرشن سے کہا کہ لڑائی کیسے لڑیں پانڈو خود لڑائی کے لئے تیار نہیں اور دشمن بہت زیادہ تعداد میں ہے جس کا مقابلہ کرنا نا ممکن ہے۔بہتر ہے کہ لڑائی نہ کی جائے۔لیکن کرشن جی نے کہا خواہ پانڈو