خطبات محمود (جلد 26) — Page 485
1945ء 485 خطبات محمود کے بعد آپ کے خلیفہ اور بروز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا اور خدا نے اُن سے کہا کہ جاؤ اور ہمارے لئے ایک نئی مملکت اور ایک نئی بادشاہت قائم کر دو۔ مگر وہ اپنے مالوں کو لے کر بھاگتے پھرے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی مملکت کے لئے جزائر پیدا نہ کئے۔ اس وقت جو کام ہمارے سپر د ہے وہ ایسا عظیم الشان ہے کہ جس کی مثال اس سے پہلے دنیا میں نہیں ملتی۔ اس کی بنیاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی تھی۔ مگر اس کو ختم کرنا اب ہمارے سپر د کیا گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں پکار رہے ہیں کہ اے مزدورو! آؤ اور اس عمارت کی تکمیل کرو۔ مگر ہم میں سے بہت لوگ ایسے ہیں جو بھاگتے پھرتے ہیں اور قربانیوں سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سامنے خوشی کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ جو خوشی کے ساتھ قربانیاں کریں گے اور خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کر دیں گے وہ اسلام کی آخری تعمیر میں حصہ لینے والے اور اسلام کے معمار ہوں گے۔ اور وہی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعتوں میں لکھے جائیں گے اور اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوں گے کیونکہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ مولوی برهان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخلص ترین صحابی اور پنجاب کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد جب ان کے ساتھیوں نے ان کو چھوڑ دیا تو ان کی حیثیت مزدوروں کی سی ہو گئی۔ حتی کہ ان کے پاس پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ مگر اس قدر قربانیوں کے باوجود ان کے دل میں ہمیشہ خلش رہتی تھی کہ ابھی ہم نے کچھ نہیں کیا۔ مجھے ان کا اسی قسم کا ایک واقعہ یاد ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں بیٹھے تھے اور آپ روحانی معارف بیان فرما رہے تھے۔ حضرت خلیفہ اول، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور دوسرے دوست بھی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مولوی برہان الدین صاحب نے چیخیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا