خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 484

خطبات محمود اور یہ 484 $1945 بہت قلیل تعداد میں رہ جائیں گی۔جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہو تا ہمارا کام ختم نہیں ہو سکتا۔مقصد فرشتوں نے پورا نہیں کرنا بلکہ ہم نے پورا کرنا ہے۔فرشے صرف ہمارے مدد گار ہوں گے۔لیکن اس کام کی تکمیل کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔ہم میں سے ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا مرتا چلا جائے گا اور ایک زمانہ دراز کے بعد یہ مقصد حاصل ہو گا۔بہر حال جو لوگ اس غرض کے لئے آگے آتے چلے جائیں گے وہی خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب ہوں گے۔دینی جماعتوں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے مونگے کے جزیرے ہوتے ہیں۔سینکڑوں جزائر دنیا میں ایسے موجود ہیں جن میں مونگے جیسے حقیر جانور جن میں عقل و شعور کا مادہ بھی نہیں ہوتا ایک دوسرے پر گر کر جان دیتے چلے گئے۔یہاں تک کہ میلوں میل لمبے اور چوڑے جزائر انہوں نے آباد کر دیئے۔اور وہ جزائر آج کو رل آئی لینڈز (Coral Islands) کے نام سے مشہور ہیں۔ان میں لاکھوں آدمی بستے ہیں اور بڑی بڑی نعمتیں وہاں پیدا ہوتی ہیں۔اگر مونگے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا میں اپنی جانیں قربان کر کے جزائر آباد کر دیتے ہیں تو کتنا بد بخت وہ انسان ہے جسے خدا تعالیٰ نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان بسانے کا حکم دیا اور اُس نے اپنی جان کو کئی قسم کے بہانوں سے بچانا شروع کر دیا۔رب العرش کے حکم کے ماتحت وہ مونگے جن سے خدا تعالیٰ نے کسی جنت کا وعدہ نہیں کیا۔جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا عظیم الشان نبی ہدایت کے لئے نہیں آیا۔جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسا نبی نازل نہیں ہوا۔اور جن کے لئے آدم سے لے کر اب تک ایک لمبا سلسلہ انبیاء قائم نہیں ہوا مر کر دنیا میں کئی جزائر آباد کر گئے۔اُن کو خدا نے کہا جاؤ اور ایک نئی دنیا بسا دو۔اور وہ اس کی تعمیل میں ایک دوسرے پر گر کر فنا ہوتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ اتنا انبار لگ گیا کہ گہرے سمندر میں سے خشکی نکل آئی۔جس پر اور مونگوں نے مر مر کر اسے اور بڑا اور چوڑا کر دیا یہاں تک کہ وہ جزائر بن گئے۔جن میں اب لاکھوں انسان بس رہے ہیں۔لیکن کتنے بد بخت ہیں وہ انسان کہ اُن کے لئے آدم سے لے کر حضرت مسیح ناصری تک انبیاء آئے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے بھیجا۔اس