خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 486

+1945 486 خطبات محمود مولوی صاحب ! کیا بات ہے؟ لیکن آپ جتنا پوچھتے آپ اتناہی زیادہ زور سے رونے لگ جاتے۔آخر بار بار پوچھنے اور تسلی دلانے پر مولوی برہان الدین صاحب نے کہا حضور ! لوگ اِس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ مسیح آئے گا، دنیا میں روحانی معارف لٹائے گا اور ہم اُس پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔ہم ان امیدوں کے ساتھ انتظار میں تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ہم ہر قسم کی قربانیاں کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کریں گے کہ خدا تعالیٰ کا مسیح آگیا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے مجھے ایمان لانے کی توفیق عطا فرما دی۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اسلام کے لئے قربان کر سکوں۔حالانکہ وہ غریب ہی اس لئے ہوئے تھے کہ وہ احمدی ہو گئے تھے۔پھر کہنے لگے ہم سنا کرتے تھے کہ مسیح آئے گا تو خزانے لٹائے گا اور آپ نے خوب خزانے لٹائے مگر میں تو پھر بھی جھڈو کا جھڈو ہی رہا۔جھڈو کے لفظی معنی تو مجھے نہیں آتے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ میں پھر بھی ناکارہ کا ناکارہ ہی رہا۔یہ کہہ کر وہ چیچنیں مار کر رونے لگ گئے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْهُم مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ 10- یعنی مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے قربانیاں کیں اور انتہا درجہ کی قربانیاں کیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پالیا۔اور کچھ ایسے ہیں جو قربانیاں کر رہے ہیں۔اور کچھ ایسے ہیں جو نشانات و معجزات پر سے اس طرح گزر جاتے ہیں جس طرح کہ وہ آدمی جس نے اپنے بدن پر تیل ملا ہوا ہو اس پر سے پانی گزر جاتا ہے اور کوئی قطرہ اُس کے جسم میں جذب نہیں ہوتا۔یہ لوگ جماعت کے گلے میں ایسا پتھر ہیں جو جماعت کو اُٹھنے نہیں دیتے۔اسلام کی جنگ کا زمانہ قریب سے قریب تر آتا جا رہا ہے اور ہم ابھی صرف پینترے بدل رہے ہیں۔جیسے پینترے بدلنا اصل چیز نہیں ہوتی بلکہ وہ جسم کو گرم کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اسی طرح ہمارا مختلف قسم کی تحریکات جاری کرنا اور جماعت کو مالی قربانیوں میں حصہ لینے کی دعوت دینا پینترے بدلنے والی بات ہے۔ورنہ اصل کام اور ہے۔ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔ہم نے دنیا کے دلوں اور دماغوں کو فتح کرنا ہے۔اور اس کے لئے ہمیں جن سامانوں کی ضرورت ہے اُن کا اندازہ بھی ہم آج نہیں لگا سکتے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل