خطبات محمود (جلد 26) — Page 465
1945ء 465 خطبات محمود سیکرٹری تجارت کی بات فورامان لیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے سیکر ٹری تجارت کسی کو کہے کہ دو رویے جو ہر میں ڈال دو۔ تو وہ کبھی بھی اس کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر سیکرٹری تجارت شمسی کو کہے کہ دو روپے کا نمونہ جو ہڑ میں پھینک دو تو وہ کبھی بھی پھینکنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ اور وہ نہ پھینکنے میں حق بجانب ہو گا۔ اسی طرح اس وقت عام لوگوں کے نزدیک سیکرٹری تجارت کو نمونہ دینا گویا جو ہر میں ڈالنے کے مترادف ہے اس لئے وہ تعاون نہیں کرتے۔ پس گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ بار بار مختلف رنگوں میں تحریک کرتے رہنا چاہیے۔ ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جماعت کے لوگوں کو چندہ ضرور دینا چاہیے خواہ تین مہینہ میں ایک دھیلہ ہی دیں۔ لیکن آہستہ آہستہ تین ماہ میں ایک دھیلہ سے بڑھتے بڑھتے ہر ماہ ایک آنہ فی روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ بلکہ اگر دوسری تحریکوں کے چندوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ دس فیصدی تک پہنچ جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ جو نکمے اور بے اثر ہیں وہ ایک آنہ فی روپیہ بھی چندہ نہیں دیتے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اکثر ایسے ہیں جو بہت زیادہ چندہ دیتے ہیں۔ حالانکہ اس کی ابتدا تین ماہ میں ایک دھیلہ سے ہوئی تھی۔ پھر جن لوگوں کی وصیت ہے اُن میں سے بعض پندرہ بعض پندرہ فیصدی تک دیتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو تینتیس فیصدی تک دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو پچاس فیصدی تک بلکہ اس سے بھی زیادہ دیتے ہیں۔ اور ابھی ہم خوش نہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے بھی زیادہ قربانی کرنی چاہیے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تین ماہ میں ایک دھیلے سے کام شروع کیا تھا تو سیکر ٹری صاحب تجارت کون ہیں کہ ان کا کام پہلے دن ہی روپیہ سے شروع ہو۔ پس لوگوں کو بار بار تحریک کرتے رہنا چاہیے۔ جو آج قائل نہیں وہ کل ہو جائیں گے۔ جو کل قائل نہ ہوں گے وہ پرسوں قائل ہو جائیں گے۔ جو پرسوں قائل نہ ہوں گے وہ اترسوں قائل ہو جائیں گے۔ اس کے بالمقابل میں احمد ی صناعوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وقت کی ضرورت کو پہچانیں اور جو بھی ان کی صنعت ہو مثلاً کوئی بٹن بنارہا ہے ، کوئی سیاہی بنا رہا ہے، کوئی پالش بنا رہا ہے وہ اپنے اپنے نمونے محکمہ تجارت کو بھجوا دیں۔ کیونکہ جہاں جہاں محکمہ کی ایجنسیاں قائم ہو گئی ہیں وہاں کے لوگ نمونے مانگتے ہیں۔ اور محکمہ کے پاس نمونے نہ ہوں تو اسے بہت دقت پیش آتی ہے۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ نوجوان اور صناعوں کا عجیب قسم کا مطالبہ