خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 466

خطبات محمود 466 $1945 ہے کہ سلسلہ اُن کی چیزوں کی ایڈور ٹائزمنٹ (Advertisement) بھی کرے اور جب باہر سے ان چیزوں کے نمونے مانگے جائیں تو قیمتاً خرید کر بھیجے۔جو لوگ نمونے مفت دیں اُن کا مطالبہ تو کسی قدر صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن جن لوگوں نے نمونے مفت نہیں دیے اُن کا یہ مطالبہ کسی طرح درست نہیں کہ ہماری چیزوں کے اشتہار بھی تم دو۔اور اگر باہر سے ان چیزوں کے نمونے مانگے جائیں تو خرید کر بھیج دو۔آجکل تجارت میں کامیابی کا سب سے بڑا راز یہی سمجھا جاتا ہے کہ اشتہار سے کام لیا جائے اور اپنی چیز کو ملک میں زیادہ سے زیادہ شہرت دی جائے۔انگلستان میں اس بات کا اس قدر خیال رکھا جاتا ہے کہ وپہلے اگزیبشن (Exhibition) میں ایک تین آنے کی نب کے لئے اس کے مالک نے بائیس ہزار روپیہ دے کر ایک میز کی جگہ لی۔میں نے اُس سے پوچھا کہ تین آنے کی نب کے لئے آپ نے بائیس ہزار روپیہ خرچ کیا ہے اس سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا یہ رقم تو کچھ بھی نہیں ہمارا ڈیلی میل (Daily Mail) میں روزانہ اشتہار چھپتا ہے اُس کے لئے ہم پندرہ ہزار پونڈ سالانہ ڈیلی میل والوں کو دیتے ہیں۔گویا سوا دو لاکھ روپے وہ اشتہار کے لئے ڈیلی میل والوں کو دیتے تھے حالانکہ اُن کو کوئی خاص کامیابی بھی نہ ہوئی۔کیونکہ بعد میں میں نے وہ نب کسی کے پاس نہیں دیکھا۔لیکن باوجود اس کے وہ لوگ اشتہارات پر بہت سارا روپیہ خرچ کر دیتے ہیں تاکہ ان کے نام کی شہرت ہو جائے۔اور دنیا کا یہ قاعدہ کے کہ جس فرم یا جس کمپنی کا نام لوگوں نے سنا ہو ا ہو اُس کی چیز خرید لیں گے قطع نظر اس کے کہ وہ چیز کسی کام کی ہے یا نہیں۔پس اپنی چیز کو شہرت دینا اس زمانہ میں تجارت کا ایک ایسا حصہ ہے جس کے بغیر تجارت میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔فرض کرو ایک شخص جس چیز کی شہرت نہیں وہ بازار میں اپنی چیز لے کر آیا اور سارے بازار میں پھر گیا۔لیکن اُس سے کسی نے نہ خریدی تو اُس کا بازار میں پھر نا بے فائدہ اور بے کار نہیں ہو گا بلکہ دوسری دفعہ جب وہ آئے تو اس کو نئی واقفیت پیدا کرنے یا اپنی واقفیت کرانے کی ضرورت نہ ہو گی۔کیونکہ بازار کے لوگ اُس کے متعلق جانتے ہوں گے کہ ان کا فلاں چیز کا کارخانہ ہے۔اور جس کو ضرورت ہو گی وہ اسے آرڈر دے کر اس سے لے لے گا۔اور اس کا پہلی دفعہ آنا اسے نئی تحقیقات سے بچالے گا اور ایک دفعہ جب