خطبات محمود (جلد 26) — Page 400
$1945 400 خطبات محمود ملے ہیں تو جماعت کے چندے میں بھی تو اضافہ ہوا ہے۔اگر کوئی شخص اسے خود غرضی قرار دیتا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے دین سے محبت نہیں۔تمہیں دین سے محبت ہے اس میں ہماری عزت ہے نہ کہ بے عزتی۔لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ خود غرضی نہیں کی گئی بلکہ یہ کام دین کی خاطر کیا گیا ہے اور اس سے مجھے بھی فائدہ پہنچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دین میں شامل کیا اور اس میں بھی ہماری ہی عزت ہے۔بہر حال ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ احمد یہ جماعت کے لوگ ایسے کام اختیار کریں جن کی وجہ سے جماعت کی اقتصادی حالت ترقی کرے۔میں نے پچھلے سال اس بات پر بڑا زور دیا تھا کہ جماعتوں کی ترقی کے لئے تجارت کی ترقی بڑی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ زمیندار اپنی زمینوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔اگر ایک جماعت کے پاس اتنی زمین ہے کہ فرض کرو دس کروڑ روپیہ سالانہ اُس کو آمدنی ہوتی ہے لیکن سیاسی حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اُس کو اپنا ملک چھوڑنا پڑتا ہے تو دس کروڑ والی جماعت دس پیسے کی حیثیت کی بھی نہیں رہے گی۔کیونکہ وہ زمین اٹھا کر ساتھ نہیں لے جاسکتی۔لیکن اگر کسی تاجر کے پاس دس لاکھ روپیہ ہے اور اُسے ملک چھوڑنا پڑتا ہے تو وہ دس لاکھ نہیں تو آٹھ نو لاکھ روپیہ ضرور ساتھ لے جائے گا۔کیونکہ اس کا روپیہ حرکت کرنے والا ہے اور زمیندار کا روپیہ حرکت کرنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قوم میں ہل آ گیا وہ ذلیل ہو گئی۔2 اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین میں ہل چلانے کی وجہ سے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب اس پر کوئی دوسری قوم قابو پالیتی ہے تو پھر وہ بے بس ہو جاتی ہے کیونکہ وہ زمین اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی جو اس کی کمائی کا ذریعہ ہوتی ہے۔لیکن جو تاجر اور صناع ہوتے ہیں اُن کی یہ حالت نہیں ہوتی۔مثلاً ایک رنگریز ہے اُس کو اُس کے ملک سے باہر نکال دو اور کہیں پھینک دو وہ اپنی آمدنی اپنے ساتھ لے جائے گا کیونکہ اُس کا مال اُس کے دماغ میں ہے۔وہ جاپان جا کر بھی اپنا کام کرلے گا، وہ چین جاکر بھی اپنا کام کر لے گا، وہ امریکہ جاکر بھی اپنا کام کرلے گا۔آخر ساری دنیا میں ایک حکومت نہیں ہوتی۔اگر آدھی دنیا بھی اُس کی مخالف ہو گی تو آدھی اُس کے حق میں سمجھ لو۔اگر 9/10 بھی اُس کی