خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 401

خطبات حمود 401 $1945 مخالف ہو گی تو 1/10 تو ضرور اُس کے حق میں ہو گی وہ وہاں جا کر اپنا کام کر لے گا۔یہودی فلسطین میں زمیندار بننے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ ان کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ان کی شہرت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں تجارت ہے۔یہی تجارت ان کو امریکہ میں لے جاتی ہے، فرانس میں لے جاتی ہے، جرمنی میں لے جاتی ہے، روس میں لے جاتی ہے۔اور جہاں جاتے ہیں اپنے مال کو ساتھ لے جاتے ہیں۔اور جہاں چاہتے ہیں رسوخ بڑھا لیتے ہیں۔میں نے پچھلے سال توجہ دلائی تھی کہ جماعت کے تاجروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متحد ہو جائیں۔مگر باوجود میرے بار بار توجہ دلانے کے تاجروں نے سمجھ لیا کہ ہمیں بھلا کیا ضرورت ہے کہ ہم اس قسم کے اعلانات کی طرف توجہ کریں۔ہم کامیاب تاجر ہیں ہمیں ان کے مشوروں کی کیا ضرورت ہے۔اور ان محکموں سے کیا غرض۔حالانکہ تنظیم اس قدر ضروری چیز ہے کہ مجھے ایک دفعہ سر آغا خان کے ایک مرید نے جو بڑی پوزیشن رکھنے والے ہیں سنایا۔میں نے ایک دفعہ سر آغا خان سے کہا کہ اگر ہماری اولاد سے کسی کا ایمان آپ پر نہ رہے تو کیا کریں؟ سر آغا خان نے جواب میں کہا بے شک وہ جو عقیدہ چاہے رکھیں مگر ان سے کہو کہ اپنے جتھے کو قائم رکھیں۔صرف مجھ کو تم سے فائدہ نہیں بلکہ تم کو بھی مجھ سے فائدہ ہے۔تم میں سے اگر کسی کو وائسرائے کے پاس کسی غرض کے لئے جانا ہو تو ضروری نہیں کہ ہر ایک وائسرائے کے پاس جا سکے اور نہ ہر ایک جاسکتا ہے۔ہاں میں اُس کے پاس جا سکتا ہوں۔اِس لئے سیاسی لحاظ سے جتھے کو قائم رکھو۔اور ایمان کے لحاظ سے خواہ تمہاری کوئی حالت ہو۔پھر اُسی تاجر نے کہا اِس وقت دو بیٹے آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے ایک احمدی خیال کا ہے اور ایک سنی خیال کا۔میں ان دونوں سے کہتا ہوں کہ بے شک تم احمدی ہو جاؤ یا بے شک تم سنتی ہو جاؤ۔مگر بظاہر لوگوں سے کہا کرو کہ ہم سر آغا خان کے مرید ہیں کیونکہ سر آغا خان کی مدد بھی ہمیں کام دے جاتی ہے۔مذہب کے لحاظ سے خواہ یہ بات کس قدر نا پسندیدہ ہو مگر اس میں کیا شک ہے کہ جن اقوام کے جتھے ہیں وہ بڑی طاقت پکڑ جاتی ہیں۔اگر دین سے آزاد ہو کر لوگ جماعت بندی سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ دین کے ساتھ جتھا بندی اور بھی زیادہ