خطبات محمود (جلد 26) — Page 399
+1945 399 خطبات محمود میں حاضر کروں۔لیکن جب کبھی بھی میرے پاس پانچ سات روپے جمع ہو جاتے مجھ سے رہانہ جاتا اور میں قادیان چل پڑتا۔قادیان آکر حضور سے مل کر نذرانہ پیش کر دیتا۔اسی طرح دن گزرتے گئے ، ہمیشہ خواہش ہوتی کہ سونا پیش کروں مگر ہمیشہ ہی جب پانچ چھ روپے جمع ہو جاتے تو برداشت نہ ہو تا تھا اور میں قادیان آجاتا تھا۔ان کی تنخواہ شروع میں دس پندرہ روپے ہوتی تھی۔کتنا بھی کم خرچ کرو اتنی تنخواہ میں سے ایک دو روپے ہی بچائے جاسکتے ہیں۔پس پانچ چھ روپے جمع ہونے میں کئی ماہ لگ جاتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب وہ تحصیلدار ہو گئے۔اُس وقت انہوں نے روپیہ جمع کرنا شروع کیا اور ان کو پاؤنڈوں میں تبدیل کرنا شروع کیا۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے کچھ پاؤنڈ جمع کئے تو حضرت صاحب فوت ہو گئے۔اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگ گئے۔پھر کئی منٹ تک روتے رہے۔آخر اپنے نفس پر قابو پایا اور یہ فقرہ کہا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ تھے تو میرے پاس سونا نہ آیا اور جب میرے پاس سونا آیا تو وہ فوت ہو گئے۔یہ کہہ کر پھر رونا شروع کر دیا اور ان سب باتوں میں قریباً نصف گھنٹہ لگ گیا۔پھر انہوں نے آخر میں کہا اب میری طرف سے یہ حضرت اماں جان کو دے دیں۔اب میں یہ رقم اُن کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔تو مومن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے اور یہ لازمی اور قدرتی بات ہے جب ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ دین کی تکہ بوٹی اُڑائی جارہی ہے، جب ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ دین کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے تو اس کے بعد کسی انسان کا دل کس طرح تڑپ سے خالی رہ سکتا ہے کہ خد اتعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں دین کی خوب خدمت کروں۔پس ہمیں چاہیے کہ جہاں ہم دین کی ترقی کے لئے کوششیں کریں وہاں دنیوی ترقی کے لئے بھی سامان مہیا کریں۔اور ان سامانوں کو مہیا کرنے کے لئے ہماری جماعت کی طرف سے کوشش ہوتی رہتی ہے۔اس کے لئے ایک محکمہ بنا ہوا ہے۔جہاں کہیں کوئی نوکری خالی ہوتی ہے اور اُسے اِس کا پتہ لگتا ہے تو محکمہ کوشش کرتا ہے کہ کوئی احمدی وہ جگہ لے لے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خود غرضی کے ماتحت کیا گیا ہے۔اگر ہمیں پندرہ کی بجائے ہیں