خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 327

$1945 327 خطبات محمود بھی اس نشان اور اس بارش کے مقابلہ میں ہم نے نئی ڈالیوں اور نئے شگوفوں کے رنگ میں کوئی جواب نہیں دیا۔تب خدا نے کہا یہ سُوکھے ہوئے درخت ہیں ان کے لئے ایک بارش کافی نہیں۔ان کے زندہ کرنے کے لئے ویسی ہی بلکہ اس سے بھی بڑی ایک اور بارش چاہیے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے پھر ایک بہت بڑا زلزلہ پیدا کر دیا اور ایک نیا نشان دکھلایا۔پہلی جنگ تو اچانک آگئی تھی اور جماعت کو اس کے لئے تیاری کا موقع نہیں ملا تھا۔لیکن یہ جنگ خدا تعالیٰ نے اچانک پیدا نہیں کی بلکہ 1934ء سے جب سے کہ تحریک جدید شروع ہوئی ہے میں کہتا چلا آیا تھا کہ ایک بہت بڑا تغیر پیدا ہونے والا ہے اور ایک بہت بڑا خلا رو نما ہونے والا ہے۔اور میں جماعت کو یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ تم اس کے لئے تیار ہو جاؤ۔اب کوئی بد بخت ہی ہو گا جو اس نشان کے بعد یہ ارادہ نہ کرلے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اور اس فعل کے نتیجہ میں آنے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے گا۔اور اس نشان کے مقابلہ میں اپنی حالت میں ایک نیا تغیر پیدا کرے گا۔جس طرح گلاب کا پودا اپنے میں سے گلاب کا ایک تازہ پھول نکال دیتا ہے اور چنبیلی کا پودا اپنے میں سے چنبیلی کا ایک نیا پھول نکال دیتا ہے اسی طرح ہمیں بھی یہ ارادہ کر لینا چاہیے کہ ہم خدا تعالیٰ کے اس نشان کے بعد اپنے ایمان کا نیا مظاہرہ کریں گے۔ہمیں یہ ایک خاص موقع ملا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پہلی کو تاہیوں اور ستیوں کو دور کریں۔ایسانہ ہو کہ اُس شخص کی طرح جو بالا رادہ روزے نہیں رکھتا اور وہ اگلے رمضان سے پہلے مر جاتا ہے تو وہ تو بہ لے کر تو خدا کے سامنے جا سکتا ہے لیکن روزے لے کر خدا کے سامنے نہیں جا سکتا۔ہم بھی ندامت کے آنسو لے کر تو اُس کے سامنے جائیں لیکن عقیدت کے پھول اس کے سامنے پیش نہ کر سکیں۔اگر ہم اس جنگ کے آنے سے پہلے مر جاتے تو ہم ندامت لے کر ہی خدا تعالیٰ کے سامنے جاسکتے تھے لیکن اس نشان کے مقابلہ میں ایمان کے جو پھول نکلنے چاہئیں تھے وہ ہم اس کے سامنے نہیں رکھ سکتے تھے۔ہم آنسو لے کر تو خدا تعالیٰ کے سامنے جاسکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تیرے ایک نشان کو دیکھا اور اس کے نتیجہ میں کوئی کام نہ کیا۔ہم اپنے فعل پر نادم ہیں لیکن عقیدت اور محبت کا کوئی تحفہ اُس کے سامنے پیش نہیں کر سکتے تھے۔اب تم خود غور کر لو۔اِن دونوں باتوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔کجا خدا تعالیٰ کے سامنے