خطبات محمود (جلد 26) — Page 326
$1945 326 خطبات محمود کا علاج ہم دوبارہ نہیں کر سکتے تھے۔اگر ہمیشہ ہمیش کے لئے کوئی نیا واقعہ پیش نہ آتا یا زیادہ دن گزر جاتے اور کوئی نیا نشان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر نہ ہو تا۔ہاں تو بہ اور استغفار کر سکتے تھے۔جس طرح بالا رادہ روزہ نہ رکھنے والے وقت گزر جانے کے بعد روزہ نہیں رکھ سکتے۔یا بالا رادہ نماز چھوڑنے والے نماز کا وقت گزر جانے کے بعد نماز نہیں پڑھ سکتے۔ہاں تو بہ اور استغفار کر سکتے ہیں۔اسی طرح اس جنگ کے بعد جو جواب ہونا چاہیے تھا اگر اُس جواب کو ہم نے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں کیا تو ہمارے پاس اب سوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہم توبہ اور استغفار کرتے رہیں اور اپنی غفلت پر روتے رہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری اس کمزوری کو دیکھ کر کہ یہ مردہ ملک اور مُردہ قوم میں پیدا ہوئے ہیں فرمایا کہ میں اس نشان کی پنج بار چمک دکھلاؤں گا۔یعنی یہ لوگ ایک ایسی مُردہ قوم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ایک ایسے مردہ ملک میں رہتے ہیں کہ زندہ ملکوں اور زندہ قوموں کی طرح فورا ایک نئے فعل کے مقابل پر نیا جواب نہیں دیتے۔بلکہ اُس مُردہ اور شو کبھی ہوئی شہنی کی طرح ہیں جو ہر نئی بارش کے مقابل پر جواب پیش نہیں کر سکتی۔بلکہ تین چار بارشوں کے بعد اس میں سبزی نظر آتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اب یہ ٹہنی لہلہانے لگ جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت پر رحم فرمایا اور اس کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا۔میں اپنے نشان کی چمک پانچ دفعہ دکھلاؤں گا۔ان پانچ نشانوں میں سے پہلا نشان کا نگڑے کا زلزلہ ہے۔دوسری دفعہ جنگ عظیم کا نشان ظاہر ہوا جو 1914ء میں ہوئی۔اس کے بعد بہار اور کوئٹہ کے زلازل آئے۔اور اب چوتھی دفعہ پھر جنگ کے زلزلے کا نشان آیا جو آب ختم ہو گیا ہے۔جہاں یہ زلزلہ دنیا کے لئے عذاب تھا وہاں ہم پر خدا تعالیٰ کا احسان بھی تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ گزشتہ نشانوں کے کھو جانے کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ کے لئے روتا چھوڑ دے۔خصوصاً 1914ء کے نشان پر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے 1914ء میں ایسا نشان دکھایا تھا جو مخفی نہیں تھا جو کسی ایک انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والا نہیں تھا، جو کسی ایک ملک کے ساتھ تعلق رکھنے والا نہیں تھا بلکہ سارے ملکوں کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا، جو کسی ایک شہر کے ساتھ تعلق رکھنے والا نہیں تھا بلکہ سارے شہروں کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا پھر